ہمارا گھر ہماری جنت — Page 19
کر رہے ہوں بلکہ ایک دوسرے کی عصمت و عزت کا پاس رکھ رہے ہیں۔میانہ روی کی تعلیم حضرت خولہ بنت حکیم بھی عظیم صحابیات میں سے تھیں۔آپ کے خاوند حضرت عثمان بن مظعون تھے۔حضرت خولہ کا امہات المومنین کے پاس آنا جانا تھا۔ایک دفعہ حاضر ہو ئیں تو حالت بری تھی۔ازواج مطہرات نے وجہ دریافت کی کہ کیا بات ہے آپ کے خاوند تو بہت مالدار ہیں پھر یہ حال کیوں؟ جو ابا عرض کیا ہمیں ان سے کیا تعلق ان کی رات عبادت میں کٹتی ہے اور دن روزہ میں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم ہوا تو انہیں نصیحت فرمائی:۔(عثمان ) ایسا مت کر بے شک تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے اور تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے اور تیرے گھر والوں کا تجھ پر حق ہے۔لہذا نماز پڑھ اور سوجا اور کبھی روزہ رکھ کبھی چھوڑ۔چنانچہ اس کے بعد حضرت خولہ امہات المومنین کی خدمت میں بڑی اچھی حالت میں بن سنور کر آتیں جیسے کوئی دلہن ہوتی ہے۔الطبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 211) ایک بیوی کا اپنے خاوند پر رشک حضرت فاطمہ بنت قیس کو ان کے خاوند ابو عمر و بن حفص بن مغیرہ نے طلاق دے دی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشورہ دیا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لیں۔آپ نے عرض کی میں اس کو نا پسند کرتی ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی فرمایا چنانچہ آپ نے ان سے شادی کر لی چنانچہ فرماتی ہیں:۔اللہ تعالیٰ نے واقعی میرے لئے ان میں بہت سی بھلائیاں رکھ دیں اور میں اسامہ پر رشک 19