ہمارا گھر ہماری جنت — Page 15
اسلام قبول نہ کیا۔مالک کی وفات کے بعد حضرت ابوطلحہ نے آپ کو شادی کا پیغام بھیجا لیکن آپ اس وقت تک انکار کرتی رہیں جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہو گئے۔جب آپ مسلمان ہوئے تو اُم سلیم نے کہا میں آپ سے شادی کروں گی اور اسلام کے سوا اور کوئی مہر نہ لوں گی۔(الطبقات جلد 8 صفحه 446) چنانچہ اسی حق مہر پر آپ کی شادی طے پا گئی۔ان میاں بیوی میں محبت، ایمان ، یقین بڑھتا گیا۔چنانچہ تاریخ میں مرقوم ہے کہ حضرت ابوطلحہ کا ایک بیٹا تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں مذاقاً فرماتے ابو عمیر بلبل نے کیا کیا؟ ایک مرتبہ ابو عمیر بیمار ہوئے۔ان کے والد گھر نہ تھے تو بچہ مرض سے وفات پا گیا۔ام سلیم نے ان کے کفن وغیرہ کی تیاری کی اور کہا اس معاملہ کی خبر ابو طلحہ کو نہ پہنچاؤ۔پھر رات کو ابوطلحہ آئے تو ان کے لئے خود کو سنوارا اور سنگھار کیا۔پھر ابوطلحہ نے ابو عمیر کے بارہ میں پوچھا تو فرمانے لگیں وہ تو اپنی جگہ پر آرام سے ہے پھر شوہر کے لئے کھانا پیش کیا۔صبح ام سلیم نے حضرت ابوطلحہ کو اس کی وفات کی خبر دی۔حضرت ابوطلحہ نے انا للہ وانا الیہ راجعون اور اللہ کی بڑائی بیان کی اور فرمایا : خدا کی قسم میں تجھ کو صبر پر اپنے سے زیادہ غالب نہ ہونے دوں گا۔چنانچہ جب صبح آپ کی ملاقات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دونوں کے صبر کی تعریف فرمائی اور دعا دی۔اللہ تعالیٰ نے اس صبر اور اس پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں دونوں کو خوب نوازا۔دونوں کو بلند مقامات عطا فرمائے۔عبد اللہ بن ابی طلحہ کے سات بچے ہوئے۔ساتوں حفاظ قرآن تھے۔(الاستیعاب جلد 4 صفحه 284 تا 285 کتاب الکنی) حضرت ام سلیم کے بارہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں داخل ہوا تو وہاں میں نے کسی کی آہٹ سنی۔پوچھا کون ہے؟ تو جواب آیا یہ غیمصا ملحان کی بیٹی انس بن مالک کی والدہ ماجدہ ہیں۔التاج الجامع للأصول فى احاديث الرسول جلد 3 صفحه 386) 15