ہمارا آقا ﷺ — Page 133
ہمارا آقا ع 133 جب باپ کو یہ حال معلوم ہوا تو اُسے لڑکی کی حالت پر نہایت سخت طیش آیا اور اُس نے قسم کھائی کہ آئندہ میرے ہاں جو بھی لڑکی پیدا ہو گی میں اُسے زندہ گاڑ دیا کروں گا۔چنانچہ اس ظالم نے اپنی بارہ ، تیرہ لڑکیوں کو جو بعد میں پیدا ہو ئیں ، اسی طرح ہلاک کر ڈالا۔اس کے بعد آہستہ آہستہ یہ رسم بد پھیلتی گئی۔یہاں تک کہ ملک عرب کے اکثر قبائل اس نجاست میں مبتلا ہو گئے۔اف خدا کی پناہ! کتنا دلدوز ، کس قدر حسرتناک اور کیسا خوفناک وہ نظارہ ہوتا ہوگا ، جب باپ اپنے کلیجے کے ٹکڑے کو اپنے ہاتھ سے گڑھا کھود کر زندہ دفن کرتا ہوگا ؟ یہ رسم روز روشن کی طرح اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ قساوت قلبی اور سنگ دلی اور بے رحمی میں عرب لوگ ساری دنیا سے بڑھے ہوئے تھے۔