ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 132 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 132

ہمارا آقا ع 132 تک میں زمین برابر کرتا رہا۔اُس وقت تک گڑھے میں سے آپی آپی کی آوازیں آتی رہیں۔“ یہ ستیا ناسی رسم عرب میں اس طرح جاری ہوئی کہ بنی تمیم کا قبیلہ حیرہ کا بادشاہ نعمان بن منذر کا تابع تھا اور اُسے خراج دیا کرتا تھا مگر بعد میں اُس نے سرکشی اختیار کی اور خراج دینا بند کر دیا۔نعمان نے اپنے بھائی کو کچھ فوج دے کر اس قبیلے کی سرکوبی کے لیے بھیجا وہ آیا اور قبیلے کی بہت سی بھیڑ بکریاں کچھ اونٹ اور بہت سی عورتیں پکڑ کر لے گیا۔بعد میں تھیلے والے اپنے فعل پر پشیمان ہوئے۔اور نعمان کے پاس عفو تقصیر کے لئے اپنے سرداروں کو بھیجا انہوں نے آکر اپنے قصور کی معافی چاہی اور آئندہ کے لیے مطیع رہنے کا وعدہ کیا۔جب نعمان نے اُن کو معاف کر دیا۔تو انہوں نے اپنے مویشی کی واپسی اور اپنی عورتوں کی رہائی کی درخواست کی۔نعمان نے مویشی وغیرہ تو واپس کر دیئے۔مگر عورتوں کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ جو عورت اپنی خوشی سے واپس جانا چا ہے۔وہ چلی جائے اور جو نہ جانا چاہے اُس پر جبر نہ کیا جائے ، وہ یہیں رہے گی۔انہی عورتوں میں قیس بن عاصم نامی ایک شخص کی لڑکی بھی تھی۔قیس نے اُس کے شوہر کو اُسے لینے کے لئے بھیجا تو اُس نے واپس آنے سے انکار کر دیا اور جو آدمی اسے قید کر کے لے گیا تھا اُسی کے پاس رہنا چاہا۔