ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 131 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 131

ہمارا آقا عدل 131 اپنی جان فدا کرتی اور ہر وقت میرے آگے پیچھے پھرا کرتی تھی۔جب میں گھر آتا دوڑ کر مجھ سے لپٹ جاتی کبھی میری گود میں لیٹ جاتی کبھی میرے کندھوں پر چڑھ جاتی ، باتیں ایسی میٹھی میٹھی کرتی کہ غیروں کو بھی اُس پر پیار آتا۔جب وہ چھ برس کی ہوگئی تو ایک روز میں نے اُسے نئے کپڑے پہنائے۔جن کو پہن کر وہ چین کی ایک بڑی سی گڑیا معلوم ہونے لگی۔میں نے کہا: ”چل میرے ساتھ “ اس پر وہ ہنستی ہوئی خوشی خوشی میرے ساتھ ہوئی ، میں اسے ایک کنوئیں پر لے گیا اور جب اُسے اُس میں دھکا دینے لگا تو وہ کہنے لگی کہ " ہیں ابا جان ! کیا کرتے ہو؟ میں گر پڑوں گی۔میں نے اس کی پرواہ نہ کی اور زور سے اسے دھکا دے دیا۔وہ کنوئیں میں گر پڑی اور فورا مرگئی۔66 صلى اللهعهم یہ درد ناک قصہ سن کر آنحضرت ﷺ اتنا روئے کہ حضور ﷺ کی ساری ڈاڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی۔الله اسی طرح اپنی لڑکی کا واقعہ ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے یہ بیان کیا کہ ” ابھی میری لڑکی دو ہی برس کی تھی کہ میں نے اُسے زندہ دفن کرنا چاہا میں اُسے جنگل میں لے گیا اور جب گڑھا کھود کر اُس میں اُسے دبانا چاہا تو بچی نے میرا دامن اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے پکڑ لیا، میں نے جھٹکا دے کر اپنا دامن چھڑالیا اور جلدی جلدی گڑھے میں مٹی بھر دی جب و