ہمارا آقا ﷺ — Page 124
ہمارا آقا ع 124 اُن کی درندگی کی حالت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ بڑی آزادی اور بے باکی کے ساتھ ڈاکے مارتے اور مسافروں کو لو ٹنے اور قتل کرتے تھے۔غضب یہ تھا کہ اس سفا کی اور بہیمیت پر قطعاً نہ شرماتے بلکہ اپنے اشعار میں فخریہ اس لوٹ مار کا اظہار کرتے تھے۔قتل و غارت سے پہلے آزادانہ جلسے کر کے اس بات کا مشورہ کرتے کہ کہاں ڈاکہ ڈالنا چاہئیے ؟ کس قبیلہ کو لوٹنا چاہئیے ؟ اور کس ذریعہ سے مال مویشی حاصل کرنے چاہئیں؟ اُن کی اس حالت کا نقشہ مولانا حالی نے ان الفاظ میں کھینچا ہے۔چلن اُن کے جتنے تھے سب وحشیانہ ہر ایک ٹوٹ اور مار میں تھا یگانہ فسادوں میں کہتا تھا اُن کا زمانہ نہ تھا کوئی قانون کا تازیانہ وہ تھے قتل و غارت میں چالاک ایسے درندے ہوں جنگل کے بیباک جیسے شیخی گھمنڈ اور تعلی میں حد سے بڑھے ہوئے تھے۔انتہا یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کی قبروں پر چلے جاتے اور لوگوں سے کہتے کہ: "دیکھو! یہ ہمارے فلاں بزرگ کی قبر ہے۔جو نہایت بہادر اور بڑا دلاور تھا۔اگر تمہارے ہاں بھی کوئی ایسا عالی قدر انسان ہوا ہو تو اُس کی قبر بتاؤ۔ور نہ شرم سے منہ نہ دکھاؤ اور چلو بھر پانی میں ڈوب مرو“