ہمارا آقا ﷺ — Page 120
ہمارا آقا عدل 120 یزید اس مہمان کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ کوئی اجنبی آدمی ہے۔شرارت جو سو جبھی تو ایک یہودی سے کہنے لگا کہ اگر تو اس اجنبی مسافر کی کمر میں زور سے ایک لات مار دے تو میں تجھے ابھی اپنی چادر دے دوں گا۔یہودی تیار ہو گیا۔مگر اُس نے اپنی اجرت پیکنگی مانگی۔اس پر یزید نے اپنے بدن پر سے چادر اُتار کر اُس کے حوالے کی اور کہا "لے اب تماشا دکھا۔“ یہودی تیار ہو کر بہت آہستہ آہستہ اس کے پیچھے گیا اور موقع دیکھ کر اُس کے ایک لات اتنے زور سے ماری کہ غریب مہمان اوندھے منہ گرتے گرتے بچا۔جب لوگوں نے تماشا دیکھا تو ہنسنے اور ٹھٹھے مارنے لگے۔اُن کو تفریح کا اچھا خاصا موقع ہاتھ آگیا۔مہمان نے لات کھا کر اپنے میزبان کو مدد کے لئے پکارا۔وہ آیا تو مہمان کی زبانی واقعہ سن کر نہایت غضبناک ہوا اور مارے غصہ کے آپے سے باہر ہو گیا۔تلوار اُٹھائی اور یہودی کی کھوپڑی اُڑا دی۔یزید کو یہودی کے مارے جانے کی خبر ہوئی تو وہ دوڑا ہوا آیا کہ حاطب کا کام تمام کر دے اور تلوار لے کر اُس پر جھپٹا، مگر وہ بیچ کر نکل گیا۔اتفاقاً اُس کے خیمہ میں بنی معاویہ کا ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔یزید