ہمارا آقا ﷺ — Page 87
ہمارا آقا ع 87 میں اس متبرک پتھر کو اُس کی جگہ پر نصب کروں گا اور کسی کی مجال نہیں جو اس شرف کو مجھ سے چھین سکے۔بس پھر کیا تھا۔آن کی آن میں سارے مکہ میں آگ لگ گئی۔ہر قبیلہ شیر کی مانند بھر گیا۔اینٹ گارا اور پھر پھینک کر لوگوں نے تلواریں سنبھال لیں اور مرنے مارنے پر آمادہ ہو گئے۔پیالوں میں انسانی خون بھرے گئے اور اُس میں انگلیاں ڈبو کر قسمیں کھائی گئیں کہ یا اپنا حق لیں گے یا ہمارا بچہ بچہ کٹ مرے گا ؟ کعبہ کی تاریخ میں ایسا ہولناک واقعہ کبھی پیش نہیں آیا تھا۔آج شہر کے ہر شخص کو چشم تصور سے مکہ کی گلیوں میں خون کی ندیاں بہتی ہوئی اور اُن میں انسانی لاشیں تیرتی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ایک تلوار ہوا میں بلند ہونے کی دی تھی۔فورا ہی ذرا سی دیر میں سارے ملکہ کی صفائی ہو جاتی اور کوئی شخص بھی باقی نہ رہتا۔اس نہایت خطرناک صورت حال کو دیکھ کر بعض بڑے بوڑھوں نے آپس میں صلح صفائی کرانے کی کوشش کی ، لیکن کوئی قبیلہ بھی اپنا حق چھوڑنے کو تیار نہ ہوا۔میانوں میں تلواریں باہر نکلنے کے لئے تڑپ رہی تھیں اور ترکشوں میں تیرا ایک دوسرے کا سینہ چھیدنے کے لئے بے چین تھے۔یہ جھگڑا چار دن تک ہوتا رہا مگر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔