ہمارا آقا ﷺ — Page 86
ہمارا آقا ع 86 کہ اب ولید پر اس گستاخی اور بے ادبی کی وجہ سے خدا کا غضب نازل ہوتا ہے۔مگر جب صبح کو دیکھا تو بوڑھا ولید خاصا بھلا چنگا صحن کعبہ میں کھڑا مسکرا رہا تھا۔تجربہ کامیاب رہا اور قریش کعبہ کو ڈھانے لگے۔جب سارا ڈھا چکے تو دوبارہ تعمیر شروع ہوئی۔قریش کے ہر ایک قبیلے نے اس نیک کام میں حصے لینے کو اپنی سعادت سمجھا اور بجائے معماروں کے قوم کے بڑے بڑے معزز سردار پتھر ڈھونے اور عمارت بنانے میں مصروف ہو گئے۔وگئے۔معززین قریش کے ساتھ وہ ہاشمی نوجوان بھی شریک تعمیر تھا جسے آگے چل کر افضل الرسل، خیر البشر اور خاتم النبین ہونا تھا۔کام پورے اطمینان سے ہو رہا تھا اور قریش کے تمام معززین نہایت ذوق و شوق سے اس میں حصہ لے رہے تھے کہ یکا یک اس زور سے ایک ایٹم بم گرا کہ قریب تھا کہ مکہ کی ساری آبادی اُس کی لپیٹ میں آکر ہلاک ہو جائے اور کعبہ کی دیوار میں مُردوں کے خون سے رنگین ہو جائیں۔ہوا یہ کہ فجر اسود ایک مقدس پتھر تھا۔جو دیوار کعبہ میں لگا ہوا تھا۔جب اُسے اُس کی اصلی جگہ رکھنے کا وقت آیا تو ہر قوم کے سردار نے کہا کہ