ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 85 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 85

ہمارا آقاعل الله 85 (2) چادر کے کونے ایک سال مکہ میں سیلاب آیا۔جس نے خانہ کعبہ کی دیواروں کو بہت نقصان پہنچایا اور وہ گرنے کے قریب ہو گئیں۔چونکہ قریش کعبہ کو بہت مقدس سمجھتے تھے۔اس لیے انہوں نے ارادہ کیا کہ اُسے ڈھاکر دوبارہ مضبوط طریقہ سے بنا ئیں مگر ساتھ ہی اُن کو یہ بھی اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسانہ ہو کہ اس کے ڈھانے کی وجہ سے ہم پر کوئی مصیبت آجائے۔اس لیے کسی کو اُس کے ڈھانے کی جرات نہ ہوئی۔ولید بن مغیرہ ( حضرت خالد سیف اللہ کا باپ ) قریش کا ایک معز ز سر دار تھا۔مگر بہت بوڑھا پھونس ہو کر مرنے کے قریب ہو گیا تھا۔اُس نے سوچا کہ قبر میں پاؤں لٹکائے تو بیٹھا ہی ہوں۔لاؤ میں کعبہ کو ڈھانا شروع کروں۔اگر مر گیا تو کل نہ مرا آج مر جاؤں گا۔فرق کیا پڑے گا لیکن اگر بچ گیا تو قوم سمجھ لے گی کہ اُس کے ڈھانے کی وجہ سے کوئی عذاب نہیں آسکتا۔یہ سوچ کر اُس نے کدال اٹھائی اور خانہ کعبہ کو ڈھانا شروع کر دیا۔شام تک ڈھاتا رہا اور قوم دیکھتی رہی۔اُس رات مکہ کے سارے باشندے جاگتے رہے اور منتظر رہے