ہمارا آقا ﷺ — Page 84
ہمارا آقا 84 بیش قیمت پوشاکیں پہنتے ، نہ غلاموں سے اپنی خدمت کرواتے اور نہ امیرانہ شان سے رہتے۔تمام اہلِ مکہ کے ساتھ آپ ﷺ کا سلوک نہایت ہمدردانہ تھا۔ہر شخص کے کام آتے اور ہر شخص کی مدد کرتے تھے۔اگر کبھی دو آدمیوں میں جھگڑا ہو جاتا تو آپ نہایت نرمی اور محبت کے ساتھ دونوں کو سمجھاتے اور آپس میں صلح کروا دیتے تھے۔آپ مے کی دیانت اور امانت پر اس درجہ لوگوں کو یقین تھا کہ اپنی امانتیں آپ ﷺ کے پاس لا کر رکھتے اور بالکل بے فکر ہو کر دور دراز ملکوں میں تجارت کے لئے چلے جاتے۔کیا مجال جو کسی کی امانت میں کبھی ایک پیسہ کا بھی فرق پڑا ہو۔لوگ اپنے معاملات میں آپ اللہ کو ثالث مقرر کرتے تو آپ ملے ہمیشہ نہایت عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے اور کبھی کسی کی بے جا طرف داری نہ کرتے۔خدیجہ ان محامد کو دیکھتیں اور دل ہی دل میں خوش ہوتی تھیں کہ خدا نے مجھے کیسا بے نظیر شوہر دیا ہے جو ہزاروں میں ایک اور لاکھوں میں فرد ہے۔ان کو اپنے فرشتہ صفت شوہر سے محبت نہیں عشق تھا اور یہ عشق آخر وقت تک برابر ترقی کرتا چلا گیا۔یہاں تک کہ موت نے ان کو اپنے محبوب ﷺ سے جدا کر دیا۔