ہمارا آقا ﷺ — Page 83
ہمارا آقا ع 83 کے حوالے ہے، جس طرح چاہیں خرچ کریں۔اگر نو جوان محمد اللہ عیش و عشرت کے دلدادہ ہوتے یا مال و دولت کے لالچ میں آپ ﷺ نے خدیجہ سے شادی کی ہوتی تو آپ نے کے لئے نہایت عمد و موقع تھا کہ اس روپے سے خوب عیش کرتے۔ناچ رنگ کے جلسے منعقد کرتے ، شراب کے دور چلتے ، اعلیٰ درجہ کی پوشاکیں پہنتے ، الله نفیس نفیس کھانے پکواتے لونڈی غلاموں کی ایک فوج آپ مال لے کے پاس ہوتی جو دن رات آپ ﷺ کی خدمت کرتی ، اور آپ سے بادشاہوں کی طرح نہایت شان و شوکت کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرتے۔الله مگر ان باتوں کے برخلاف آپ ﷺ نے وہ سارا مال جو وفا شعار بیوی نے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تھا قیموں کی امداد ، غریبوں کی اعانت، بیواؤں کی خبر گیری اور بیماروں کی ہمدردی میں خرچ کر دیا۔مہمان کی آؤ بھگت خوب کرتے۔مسافر کی خاطر تواضع کا خاص خیال صلى الله رکھتے۔کوئی سوالی آپ ﷺ کے در سے خالی نہ جاتا ، نگوں کو کپڑا دیتے ، بھوکوں کو روٹی کھلاتے ، قرض داروں کا قرض ادا کرتے ،مظلوم غلاموں کو اُن کے ظالم آقاؤں سے خرید کر آزاد کراتے اور حاجت مندوں کی ضرورت پوری کرتے تھے۔مگر آپ ﷺ کی خود اپنی زندگی نہایت سادہ اور نہایت بے تکلف اور نہایت معمولی تھی۔نہ اعلیٰ درجہ کا کھانا کھاتے ، نہ