ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 66 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 66

ہمارا آقا ع 66 میں حرب فجار کے نام سے مشہور ہے۔جب دونوں طرف کے بہادر لڑتے لڑتے تھک گئے اور ہزاروں آدمیوں کا صفایا ہو چکا ،تب بنی قیس کو اپنی ہار ماننی پڑی۔وہ عروہ کے قصاص سے دست بردار ہوئے اور قریش کی فتح ہوئی۔مگر صلح اس بات پر ہوئی کہ دونوں طرف کے جتنے آدمی قتل ہوئے ہیں، ان کو الگ الگ شمار کیا جائے۔جس قبیلے نے دوسرے قبیلے کے زیادہ آدمی مارے ہوں ، وہ زائد آدمیوں کو خون بہا ادا کرے۔جب مردہ شماری ہوئی تو معلوم ہوا کہ قریش نے بنو قیس کے بیس آدمی زیاد قتل کیے ہیں۔لہذا قریش کو میں مقتولوں کا خون بہا ادا کرنا پڑا۔اس کے بعد دونوں فریق ٹھنڈے ٹھنڈے گھر کو سدھارے۔اس جنگ کی بڑی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں ابو طالب کا مقدس بھتیجا بھی قریش کے ساتھ تھا۔اُس وقت اس کی عمر چودہ، پندرہ برس یا بعض روایات کے بموجب انیس ، بیس سال کی تھی مگر اس بات پر سب تذکرہ نویس متفق ہیں کہ مقدس لڑکے نے اپنے ہاتھ سے کسی شخص کو قتل نہیں کیا ، نہ کسی پر تلوار اٹھائی ،صرف میدانِ جنگ میں اپنے چچاؤں کو تیر اٹھا کر لا دیا کرتے تھے۔یہ تھی پہلی جنگ جس میں ہمارے آقا ﷺ نے شرکت کی۔