ہمارا آقا ﷺ — Page 52
ہمارا آقاعل الله 52 62 (10) معصوم بچے کا ارادہ ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر مشکل سے نو دس برس کی ہو گی۔ایک لڑکے کے ساتھ مکہ سے باہر پہاڑی میدانوں میں بکریاں چرایا کرتا تھا۔شہر کی حالت یہ تھی وہاں روزانہ مختلف گھروں میں قصہ خوانی کی مجلسیں اور شعر و سخن کی محفلیں نہایت زور شور سے منعقد ہوتی تھیں۔جن میں بزرگوں کی کہانیاں اور اُن کی بہادری ، دلاوری اور شجاعت کی داستانیں بڑے رنگین الفاظ میں بیان کی جاتی تھیں اور شعر وسخن کی داد دی جاتی تھی۔لوگ ذوق و شوق کے ساتھ ان محفلوں میں شریک ہوتے تھے۔اور سارا وقت شراب خوری ، عیش وعشرت اور ہا و ہو میں گزار دیتے تھے۔چھوٹے بچے کو یہ سب کچھ معلوم تھا ہمگر وہ ابھی تک ان میں سے کسی محفل میں شریک نہیں ہوا تھا۔لیکن آخر وہ بچہ تھا اور انسان کا بچہ تھا۔اس کے زمانہ کے سارے لوگ اسی آب و ہوا میں پرورش پا کر جوان ہوئے تھے۔ہر ایک پر یہی نشہ سوار تھا ، پھر خود اس کے پہلو میں بھی دل تھا۔جس میں بچپن کے جذبات شوق اور امنگیں مچل رہی تھیں۔چھوٹے بچے نے سوچا کہ لاؤ کیوں نہ میں بھی تھوڑی دیر کے لئے