ہمارا آقا ﷺ — Page 48
ہمارا آقاعل الله بٹھا لیا۔48 عبدالمطلب نے یہ دیکھا تو فرمانے لگے:۔”ابو طالب ! میں اپنی یہ زندہ نشانی تمہارے سپر دکرتا ہوں۔اس کو اپنے مرحوم بھائی کی یادگار کے طور پر اپنے پاس رکھنا اور اس کی دلجوئی میں کسی طرح کی کمی نہ کرنا۔باپ کو اس نے نہیں دیکھا ، ماں کی محبت کا مزہ اس نے زیادہ دن تک نہیں اٹھایا۔غرض دنیا کی کوئی راحت اس نے نہیں پائی اور تیم صدمات سے اس کا دل شیشے سے بھی زیادہ نازک ہو گیا ہے۔دیکھنا کہیں اس شیشے کو ٹھیس نہ لگ جائے۔تم میرے سامنے اقرار کرو کہ اپنے یتیم اور بے کس بھیجے کی پوری حفاظت کرو گے اور اُس سے ہمیشہ نہایت محبت اور اُلفت سے پیش آؤ گے اور اپنے بیٹوں سے زیادہ اس کا خیال رکھو گے۔سعادت مند بیٹے نے نہایت ہی صدق دلی کے ساتھ اپنے بھتیجے کی حتی الامکان نگہداشت کا اقرار کیا۔آنے والے زمانہ نے بتلا دیا کہ جو وعدہ حضرت ابو طالب نے اپنے والد سے کیا اس سے بہت زیادہ کر کے دکھا دیا۔ابو طالب ! ہمارے سر تیری تعظیم و تکریم میں جھک جاتے ہیں۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ تو نے ہمارے پیارے آقا کی ایسی بے نظیر