ہمارا آقا ﷺ — Page 27
ہمارا آقا ع 27 کے مقابلہ میں وہ ایک گرجا کی تعظیم کریں۔وہ اس کا طواف تو کیا کرتے ! یہ کام کیا کہ چپکے چپکے جا کر اُس میں جگہ جگہ نجاست ڈال دی اور پھر وہاں سے بھاگ آئے۔عربوں کی اس حرکت پر ابرہہ کے غصہ کی انتہا نہ رہی۔اس نے ایک زبر دست فوج جمع کی اور ساٹھ ہزار سپاہ کے ساتھ مکہ پر حملہ کر دیا تا کہ گر جا کی جنگ کے بدلہ میں کعبہ کو ڈھا کر زمین کے برابر کر دے۔ابر ہہ جب مکہ کے قریب پہنچا تو عبد المطلب کے کچھ اونٹ شہر سے باہر میدان میں چر رہے تھے، لشکریوں نے اُن کو پکڑ لیا۔۔عبد المطلب کو اس کی خبر ہوئی تو وہ ابر ہہ کے پاس گئے۔جو نہی ابرہہ نے سُنا کہ سردار قریش میرے پاس آ رہے ہیں تو وہ بڑا ہی خوش ہوا اور اُس نے سمجھا کہ غالباً اطاعت کا اقرار کرنے اور یہ التجا کرنے آرہے ہیں کہ کعبے کو نہ ڈھایا جائے اور ہمارے قصور کو معاف کر دیا جائے۔اُس نے اُن کی بڑی تعظیم و تکریم کی اور عزت سے اپنے پاس بٹھایا۔مزاج پوچھے اور پھر دریافت کیا کہ کیسے تشریف لانا ہوا؟ عبدالمطلب نے کہا ” میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں، کہ آپ کے فوجیوں نے میرے اونٹ پکڑ لیے ہیں۔وہ مہربانی