ہمارا آقا ﷺ — Page 17
ہمارا آقا ع 17 کعبہ میں پہنچ کر انہوں نے قرعہ ڈالا تو وہ اُن کے سب سے چھوٹے بیٹے عبد اللہ کے نام نکلا۔جن کی عمر اگر چہ ابھی صرف 17 برس کی تھی۔مگر سارے بیٹوں میں سب سے زیادہ لائق اور نیک تھے۔علاوہ ازیں صورت شکل کے لحاظ سے بھی اپنے بھائیوں سے بہتر تھے۔اس وجہ سے عبد المطلب کو ان سے بہت محبت تھی۔ویسے بھی چھوٹی اولاد سے عام طور پر والدین کو زیادہ محبت ہوا ہی کرتی ہے۔اس لئے جب عبد اللہ کے نام کا قرعہ نکلا تو عبد المطلب قدرنا بہت گھبرائے مگر بہر حال اُنہوں نے منت پوری کرنی چاہی۔اتنے میں قریش کے بہت سے آدمی کعبہ میں جمع ہو گئے۔اور جب انہوں نے یہ قصہ سنا تو عبدالمطلب سے کہنے لگے ”ایسا کبھی نہیں ہوسکتا کہ اتنا لائق نوجوان اس طرح موت کی نیند سلا دیا جائے۔آپ یہ کام کریں کہ دس اونٹوں پر اور عبد اللہ پر قرعہ ڈالیں۔اگر قر عہ اونٹوں کے نام نکل آیا تو انہیں ذبح کر ڈالیں۔چنانچہ دوسری دفعہ قرعہ ڈالا گیا۔مگر اُس وقت بھی وہ عبداللہ ہی کے نام نکلا۔لوگوں نے پھر کہا کہ اچھا اب میں اونٹوں اور عبد اللہ کا قرعہ ڈالو۔لیکن اس مرتبہ بھی قرعہ میں عبد اللہ ہی کا نام آیا۔قوم کے بار بار اصرار سے عبد المطلب دس دس اونٹ زیادہ کر کے