ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 12 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 12

ہمارا آقا ما 12 اسمعیل علیہ السلام آخر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند تھے۔ایک لحظہ تامل کئے بغیر انہوں نے جواب دیا ”میرے محترم باپ ! جو کچھ حکم دیا گیا ہے اُسے فوراً بجالائیں۔مجھے آپ انشاء اللہ صابر اور فرمانبردار پائیں گے۔“ باپ بیٹا دونوں جنگل میں چلے گئے پندرہ برس کا نوجوان لڑکا زمین پر لیٹ گیا اور سو برس کا بوڑھا باپ چھری لے کر اُسے اپنے رب پر قربان کر دینے کے لئے تیار ہو گیا۔آسمان و زمین اس دلدوز نظارہ سے کانپ اٹھے اور فرشتوں نے اس عجیب منظر کو نہایت حیرت سے دیکھنا شروع کیا۔دنیا کی تمام تاریخیں پڑھ جاؤ تمہیں تاریخ عالم کا کوئی بھی واقعہ ایسا حیران کن نظر نہیں آئے گا۔باپ کا دل کس طرح گوارا کر سکتا تھا کہ خود اپنے ہاتھ سے اپنے نور نظر کا گلا کاٹے۔مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام عشق خداوندی میں اتنے مد ہوش تھے کہ انہیں احساس ہی نہ ہوا کہ میں کیا کر نے لگا ہوں۔انہوں نے چھری اُٹھائی اور بیٹے کے گلے پر رکھ دی۔فوراً آسمان کے دروازے کھلے اور خدائی آواز یہ کہتی ہوئی سنائی دی ابراہیم ! ہمارا مقصد تیرے بیٹے کی قربانی نہیں تھا بلکہ ہم اس رنگ