ہمارا آقا ﷺ — Page 150
ہمارا آقا ع 150 صلى الله محمد عہ اتم اس زمانہ کے سب سے زیادہ خوش قسمت انسان ہو میں تمہیں نبوت اور رسالت کی مبارکباد دیتا ہوں۔جو نورانی پیکر تمہیں دکھائی دیا تھا۔یقیناً وہی فرشتہ تھا جو تم پہلے موسٹی پر نازل ہو چکا ہے اور جو کلمات اُس نے تمہیں تعلیم کیے۔وہ خدا کی قسم خدا کے منہ سے نکلی ہوئی باتیں تھیں۔اگر میں اُسوقت تک زندہ رہا۔جب تم کو تمہاری قوم یہاں سے نکالے گی تو میں اس مصیبت کے وقت میں ضرور تمہاری مددکروں گا۔کاش ! میں اُسوقت تک زندہ رہوں مگر بظاہر حالات امید نہیں کیونکہ میں بہت بوڑھا، نہایت ضعیف اور بے حد کمزور ہو چکا ہوں۔ہاتھ پاؤں مشکل ہو چکے ہیں۔بھارت نے۔جواب دے دیا ہے۔شاید برس چھ مہینے ہی میں مرجاؤں۔ورقہ کی اس تقریر پر بہت ہی تعجب اور حیران ہو کر آنحضرت میں ہے نے اُس سے پوچھا:۔" مجھے میری قوم یہاں سے کیوں نکال دے گی ؟ میں نے تو کبھی کسی سے کوئی برائی نہیں کی۔ہر ایک کا ہمدرد اور ہر شخص کا بہی خواہ ہوں۔سب لوگ مجھ سے خوش ہیں۔سارے مکہ میں ایک بھی ایسا نہیں جو میرا مخالف یا دشمن ہو۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میری قوم مجھے کیوں میرے وطن سے نکال دے گی ؟ نہیں۔ایسا نہیں ہوسکتا کبھی نہیں ہو سکتا میں نے قوم کا کیا بگاڑا ہے۔جو وہ مجھے یہاں سے نکالے گی ؟“