حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 71

حمامة البشرى اے اردو ترجمه وجاعل الذين اتبعوك فوق الذین اور تیرے متبعین کو مخالفوں پر قیامت تک غلبہ دوں كفروا إلى يوم القيامة، ثم منزلك گا پھر آسمان سے تجھے اتاروں گا پھر اس کے بعد من السماء ثم متوفيك۔فانظر كيف تجھے وفات دوں گا۔پس دیکھو کہ کس طرح کلام يبدلون كلام الله ويحرفون الکلم عن الہی کو بدلتے ہیں اور اس کے کلمات کو اپنی اپنی جگہ مواضعها، وليس عندهم من برهان سے ہٹاتے ہیں اور اس پر اُن کے پاس کوئی دلیل على هذا إن يتبعون إلا أهواء هم نہیں ہے۔اپنی خواہشوں کا اتباع کرتے ہیں بقية الحاشية واعلموا أيها الإخوان أن هذا بقیه حاشیہ - بھائیو یقین کر لو کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور الحديث صحيح ورجاله ثقات وله طرق، وهو اس کے سب راوی ثقہ اور معتبر ہیں اور اس کی بہت سی يدل بـدلالة صريحة على موت المسيح۔ولا سندیں ہیں اور یہ صریح طور پر میچ کی وفات کی شہادت دیتی يُقال إن الرفع هو الموت، فإنّ الموت عبارة عن ہے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ رفع بھی تو موت ہے کیونکہ موت تو خروج الروح عن الجسم العنصري، فإن کان یہ ہے کہ جسم عنصری سے روح نکل جاوے۔پس اگر مسیح جسم المسيح رفـع بجسمه العنصرى فهو حى إلى عنصری کے ساتھ اٹھایا گیا ہے تو پھر وہ اب تک زندہ ہے اور الآن، فلو فرض حياة المسيح إلى هذه الأيام للزم اگر مسیح کو اس قدر لمبے زمانہ تک زندہ مانا جاوے تو لازم آتا أن يكون نبينا حيا إلى نصف هذه المدة، وهذا ہے کہ آنحضرت اس زمانہ طویل کے نصف تک زندہ ہوں باطل فاسأل العادين۔وكذلك أخبر رسول الله اور یہ بالکل باطل ہے پس حساب دانوں سے پوچھ لے۔صلى الله عليه وسلم عن موت عيسى عليه السلام اسی طرح ایک اور حدیث میں آنحضرت نے مسیح کی وفات في حديث آخر وقال إذا سألني ربي عن فساد اُمتی کی خبر دی ہے چنانچہ فرمایا ہے کہ جب میرا خدا میری امت ولا فاقول في جوابه فلما توقيتنى كنت أنت الرقيب کے فساد کی بابت مجھ سے دریافت فرمائے گا تو میں عرض عليهم، كما قال العبد الصالح من قبلی یعنی کروں گا کہ جب تو نے مجھے مار دیا تو پھر تو ہی ان پر نگہبان ۲۷ عيسى عليه السلام۔فانظر كيف أشار إلى وفاة تھا جیسا کہ عبد صالح یعنی عیسی نے مجھ سے پہلے عرض کی تھی۔المسيح بحيث استعمل لنفسه جملة فَلَمَّا تَوَفَّيْتى دیکھو آنحضرت نے مسیح کی وفات کی طرف کیا ہی عجیب كما استعمله المسيح لنفسه وأنت تعلم أن رسول اشارہ کیا ہے کہ اپنی ذات مبارکہ کے واسطے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي کا الله صلى الله عليه وسلم قد تُوفّى وقبره جملہ ایسا ہی استعمال فرمایا ہے جیسا کہ مسیح نے اپنے لئے المبارك موجود في المدينة۔فانكشف معنی استعمال کیا تھا۔اور تم جانتے ہو کہ آنحضرت تو وفات پاگئے التوفّى بجعل رسول الله صلى الله علیه وسلم ہیں اور آپ کی قبر مبارک مدینہ طیبہ میں موجود ہے پس جبکہ واقعة المسيح وواقعة نفسه واقعةً واحدة، آنحضرت نے مسیح کے واقعہ کو اپنے واقعہ سے مشابہ اور متحد کر دیا ہے