حَمامة البشریٰ — Page 318
حمامة البشرى ۳۱۸ اردو ترجمه تراهم مستكبرين متبخترين كانهم انہیں تو متکبر اور خود پسند پائے گا۔گویا کہ انہوں بلغوا السماء ومسوها، ولم نے آسمان تک پہنچ کر اُسے چھولیا ہے حالانکہ دنیا تخرج أرجلهم من الأرض من شدة كى طرف شدید جھکاؤ کی وجہ سے اُن کے پاؤں انتكاسهم إلى الدنيا، فهم كالذی زمین سے نکلے ہی نہیں۔وہ اُس شخص کی طرح ہیں هدد أسره و کالمسجونين جس کی قیدیوں کی طرح مشکیں کسی گئی ہوں۔وہ يكلمون الناس من الإست لا من لوگوں سے منہ کے ذریعہ نہیں بلکہ سُرین کے الأفواه، يعنى ولا تجد فى كلماتهم ذریعہ کلام کریں گے یعنی تو اُن کی گفتگو میں وہ طهارة وبركة واستقامة ونورانية پاکیزگی، برکت، استقامت اور نورانیت نہیں پائے گا جو نیکوں کی گفتگو میں ہوتی ہے۔ككلمات الصالحين ۸۶ ـ قال قائل لو كان هذا هو الحق۔۔أن۔ایک شخص نے اعتراض کیا ہے کہ اگر یہی سچ ہے کہ دآبتہ دابة الأرض هي طائفة علماء هذا الزمان الارض اس زمانے کے علماء کا ایک گروہ ہی ہے تو پھر لازم فيلزم أن يكون تكفيرهم حقا وصدقا، فإن آئے گا کہ اُن کا کسی کو کا فرقرار دینا حق اور سچ ہو، کیونکہ دابتہ الارض من شأن دابة الأرض أنها تسم المؤمن کا ایک کام یہ بھی ہے کہ وہ مومن اور کافر کو نشان لگائے گا والكافر، فمن جعله الدابةُ كافرا (يُشیر تو پھر جس شخص کو وہ دآپے الارض کا فر قرار دے۔( معترض المعترض إلينا فعليكم أن تقروا بكفره کا اشارہ ہماری جانب ہے ) تو تم پر یہ لازم ہے کہ تم اُس کے فإن التكفير بمنزلة الوسم من دابة کفر کا اقرار کرو۔( دابتہ الارض علماء کا ) کسی کو کافر قرار الأرض۔فيُقال في جواب هذا المعترض دینا دابتہ الارض کے نشان لگانے کے مترادف ہے۔پس إن المراد من الوسم إظهار كفر کافر اس معترض کے جواب میں یہ کہا جاتا ہے کہ نشان سے مراد وإيمان مؤمن، فهذا الإظهار على نوعين کافر کے کفر اور مومن کے ایمان کا اظہار ہے۔پس یہ اظہار قد يكون بالأقوال وقد يكون بالأفعال دو قسم کا ہے۔کبھی تو وہ اقوال کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی ونتائجها۔وقد جرت سنة الله أنه افعال اور ان کے نتائج کے ساتھ ہوتا ہے۔اور اللہ کی سنت قد يجعل الكافرين والفاسقين عله جاریہ ہے کہ کبھی تو وہ کافروں اور فاسقوں کو اپنے انبیا ءاور موجبة لظهور أنوار إيمان أنبيائه وأوليائه ، اولیاء کے انوار ایمان کے اظہار کا لازمی سبب بنا دیتا ہے۔