حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 259 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 259

حمامة البشرى ۲۵۹ اردو ترجمه أو إذا فرضنا أن الله أمر مَلَك يا اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ اللہ نے ملک الموت الموت أن يتوفى مائة ألف من كو يہ حکم دیا کہ وہ ایک لاکھ لوگوں کو جن میں سے الرجال الذين بعضهم في بعض مشرق میں رہتے ہیں اور بعض مغرب میں المشرق وبعضهم في المغرب پلک جھپکنے کی مدت میں مار دے اور اس میں في طرفة عين، لا يقدم ولا يؤخر ، تقدیم و تاخیر نہ ہو۔( تو ایسی صورت میں ) تمہارا فما ظنك أن جبرائيل أو ملك كيا خيال ہے کہ جبرائیل یا ملک الموت اس سے الموت يعجز عن ذلك أو يقدر عاجز رہیں گے یا وہ مشرق میں ہوتے ہوئے على إتمام أمر المغرب مع كونه مغرب والے حکم کو پورا کرنے پر قادر ہوں گے؟ في المشرق، فإن كان قادرا، پس اگر وہ اس بات پر قادر ہیں تو پھر اسی طرح وہ فكذلك يقدر أن لا ينزل من اس بات پر بھی قادر ہیں کہ وہ آسمان سے نہ السماء ويفعل كل ما يشاء أتريل لیکن اُترنے والوں کی طرح جیسا چاہے کام کر دکھا ئیں۔كالنازلين و مثل آخر نستفسرك جوابه۔۔اور ایک اور مثال میں ہم تجھ سے جواب کا استفسار وهو أن ملك الموت حل بلدة کرتے ہیں اور وہ یہ کہ کسی وباء کے ایام میں ملک الموت عظيمة من البلاد المشرقية في مشرقی ممالک کے کسی بڑے شہر میں اس غرض سے أيـام الـوبـاء ليقبض أرواح سكان اترا کہ وہ اس شہر کے رہنے والوں کی روحوں کو قبض تلك البلدة، فاشتدت الضرورة کرے پھر اس کی اس شہر میں دوماہ تک قیام کی لقيامه فيها إلى الشهرين بما كثرت سخت ضرورت پڑ گئی کیونکہ اُس میں موت کے فيها واقعات الموت مسلسلة واقعات زیادہ متواتر اور مسلسل تھے۔اور وہ ابھی متواترة، وما فرغ من قبض نفس إلا ایک روح کے قبض کرنے سے فارغ نہیں ہوتا تھا وجاء وقت قبض نفس أخرى که دوسری روح کے قبض کرنے کا وقت آ جاتا۔