حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 247 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 247

حمامة البشرى ۲۴۷ اردو ترجمه ويعرف الحقيقة، وينظر اور حقیقت پہچان لیتا ہے۔اور اللہ کے نور کے بنور الله، ويرزقه الله إصابة ساتھ دیکھتا ہے اور اللہ اسے محفوظ لوگوں جیسی المحفوظين۔اصابت رائے عطا کرتا ہے۔ولنرجع إلى كلامنا الأوّل فنقول اب ہم اپنے پہلے کلام کی طرف رجوع کرتے إن الله تبارك و تعالى قال فی ہیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی محکم كتابه المحكم اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا کتاب (قرآن) میں فرمایا ہے اِنْ كُلُّ نَفْسٍ عَلَيْهَا حَافِظ ، فلمّا كانت الملائكة ثَمَّا عَلَيْهَا حَافِظ پس جب فرشتے تمام | حافظين لنفوس النجوم والشمس ستاروں سورج، چاند ، افلاک، عرش نیز ہر اس چیز والقمر والأفلاك والعرش و کل کے وجود کے محافظ ہیں جو زمین میں ہے، تو یہ ما في الأرض، لزم أن لا يفارقوا ما لازم آیا کہ وہ اپنی زیر حفاظت چیز سے لمحہ بھر کے يحفظونه طرفة عين، فانظر كيف لئے بھی جدا نہ ہوں۔پس غور کر کہ اس بات سے ظهر من هذا الأمر الحق، وبطل ما حق کیسے کھل گیا اور ان (فرشتوں) کے اپنے زعم الـزاعمون من نزولهم اصلی اجسام کے ساتھ نزول اور صعود کا عقیدہ وصعودهم بأجسامهم الأصلية۔رکھنے والوں کا خیال باطل ہو گیا۔پس اُس دقیقہ فلا مفر إلى سبيل من قبول دقيقة معرفت کے قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں المعرفة التي كتبناها۔۔أعنى أن جسے ہم نے تحریر کیا ہے یعنی یہ کہ فرشتے حقیقی الملائكة لا ينزلون بنزول حقیقی طور پر نازل نہیں ہوتے اور وہ سفر کی صعوبتوں ولا يرون وعشاء السفر، بل إذا سے دو چار نہیں ہوتے۔بلکہ جب اللہ انہیں عالم أراد الله إراء تهم في الناسوت ناسوت میں دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو اُن فيخلق لهم وجودا تمثليا في الأرض، کا ایک تمثلی وجود زمین میں پیدا کر دیتا ے کوئی (ایک) جان بھی نہیں جس پر کوئی محافظ نہ ہو۔( الطارق: ۵) ہے۔