حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 181 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 181

حمامة البشرى ۱۸۱ اردو ترجمه وقال عز وجل في كتابه المحكم يانيتها اور الله عز و جل نے اپنی محکم کتاب (قرآن) النَّفْسُ الْمُظَمَينَةُ ارْجِعِى إلى میں فرمایا ہے کہ يَآيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَجِنَّةُ - رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ۔فَادْخُلِي فِي ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي عِبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔وقال في فِي عِبدِي وَادْخُلِي جَنَّتِی نیز دوسری جگہ مقام آخر: قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ۔فرمایا قِيلَ ادْخُلِ الْجَنَّةَ لیے اور اسی طرح اُس وقص علينا قصة رجل مات نے ایک ایسے شخص کا قصہ ہمارے لئے بیان کیا ودخل الجنة، وكان له صاحب فی ہے جو مر گیا تھا اور جنت میں داخل ہو گیا تھا اور الدنيا فاسق، فمات صاحبه أيضًا دنیا میں اُس کا ایک فاسق دوست تھا اور وہ دوست ودخل النار، فذكر الذي دخل بھی مر گیا اور دوزخ میں داخل ہو گیا۔تو جنت الجنة قصة صاحبه عند أصحاب میں داخل ہونے والے شخص نے اپنے ساتھی کا الجنة و قَالَ هَلْ اَنْتُم مُّطَّلِعُونَ۔قصہ جنتیوں کے پاس بیان کیا اور قَالَ هَلْ أَنْتُمْ فَاطَّلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ مُّطَّلِعُوْنَ - فَاطَّلَعَ فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ - قَالَ تَاللهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ۔وَلَوْلَا قَالَ تَاللهِ اِنْ كنتَ لَتُرْدِينِ۔وَلَوْلَا نِعْمَةُ نِعْمَةُ رَبِّى لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ۔رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ وأنت تعلم أن هذه القصة تدلّ اور تو جانتا ہے کہ یہ قصہ بالصراحت اس امر بدلالة صريحة على أن المؤمنين پر دلالت کرتا ہے کہ مومن اپنی موت کے يدخلون الجنة بعد موتهم من غير مكث بعد بلا توقف جنت میں داخل ہوں گے۔لے اے نفس مطمئنہ ! اپنے رب کی طرف لوٹ جا، راضی رہتے ہوئے اور رضا پاتے ہوئے۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا۔اور میری جنت میں داخل ہو جا۔(الفجر: ۲۸ تا ۳۱) (اسے) کہا گیا کہ جنت میں داخل ہو جا۔(یاس: ۲۷) سے کہا کہ کیا تم جھانکو گے۔پھر اُس نے خود دوزخ میں جھانکا تو اُس نے (اپنے اُس ساتھی کو ) دوزخ میں پڑا دیکھا۔تو اُسے کہنے لگا بخدا تو تو مجھے بھی ہلاک کرنے ہی لگا تھا۔اور اگر میرے رب کا احسان نہ ہوتا تو میں بھی دوزخ میں پڑنے والوں میں سے ہوتا۔(الصافات: ۵۵ تا ۵۸)