حَمامة البشریٰ — Page 182
حمامة البشرى ۱۸۲ اردو ترجمه ثم لا يُخرجون منها ويتنعمون فيها پھر وہ اُس سے نکالے نہیں جائیں گے۔اور وہ خالـديـن۔وكذلك يثبت من أس میں ہمیشہ آرام و آسائش سے رہتے چلے القرآن أن أهل جهنم يدخلونها بعد جائیں گے۔اور اسی طرح قرآن سے ثابت ہوتا الموت من غير مکث کمالا ہے کہ دوزخی جہنم میں موت کے بعد بلا توقف يخفى على الذين يتدبرون في آية داخل ہوں گے۔جیسا کہ یہ امراُن لوگوں پر مخفی نہیں فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ، وكما جو آيت فَرَاهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ ے پر غور کرتے قال الله تعالی مِمَّا خَطیم ہیں۔نیز جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ مِمَّا اغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا۔وإن كنت خَطِيْتِهِم أُغْرِقُوا فَأَدْخِلُوا نَارًا اور اگر تو حدیث تطلب شاهدًا من الحديث فانظر سے کوئی گواہ چاہتا ہے تو معراج کی احادیث دیکھ۔إلى أحاديث الـمـعـراج، فإن کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی النبي صلى الله علیه و سلم رأی رات جہنم کا نظارہ فرمایا اور اسی طرح جنت کو بھی جهنم في ليلة المعراج، وكذلك دیکھا۔تو آپ نے جنت میں جنتیوں کو اور رأى الجنة، فرأى فى الجنة أهلها دوزخ میں دوزخیوں کو دیکھا کہ ایک فریق وفي جهنم أهلها فريقًا في النعيم ناز و نعم میں اور دوسرا فریق عذاب دیئے جانے وفريقا من المعذبين۔والوں میں سے ہے۔وإن قلت إن كتاب الله والأخبار اور اگر تو یہ کہے کہ کتاب اللہ اور اخبار صحیحہ اس الصحيحة شاهدةً على أن البعث بات پر گواہ ہیں کہ دوبارہ اُٹھایا جانا حق ہے اور میزان حق، والميزان حق، وسؤال الله حق ہے اور اللہ کا اپنے بندوں سے باز پرس کرنا عن عباده حق واقع لا شبهة فيه، الیسا حق ہے جو بلاشبہ وقوع پذیر ہونے والا ہے۔لے تو اُس نے (اپنے اس ساتھی کو ) دوزخ میں پڑا دیکھا۔(الصافات: ۵۶ ) کے وہ اپنی خطاؤں کے سبب غرق کئے گئے پھر آگ میں داخل کئے گئے۔(نوح:۲۶)