حَمامة البشریٰ — Page 113
حمامة البشرى ۱۱۳ اردو ترجمه لأنه لقى رسول اللہ صلی اللہ علیہ کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے وسلم، والأموات لا يلاقون الأحياء اور مردے زندوں سے نہیں ملتے اور تو اس قسم کی ولا تجد مثل هذه الآيات في شأن آيات عیسی علیہ السلام کی شان میں نہیں پائے گا۔عيسى عليه السلام، نعم جاء ذکر ہاں البتہ اُن کی وفات کا ذکر متفرق مقامات پر آیا وفاته في مقامات ،ششی، فتدبر فإن ہے۔پس تدبر کر، کیونکہ اللہ تدبر کرنے والوں الله يحب المتدبّرين۔کو پسند فرماتا ہے۔ولعلك تقول: لم ذكر الله اور شاید تو یہ کہے کہ پھر اللہ نے عیسی علیہ السلام کے تعالى قصة رفع عیسی علیه السلام رفع کا قصہ خصوصیت سے کیوں بیان فرمایا ہے اور بالخصوصية، وكذلك قصة اسى طرح اُن کے صلیب پر نہ مرنے کا ذکر قرآن نفى صلبه في القرآن وأتى سر میں کیوں کیا ہے۔اور ان دونوں باتوں کے ذکر ومصلحة في ذكرهما وأى حاجة میں کون سا راز اور مصلحت ہے اور اس کے بیان اشتدت لهذا البيان فاعلم أن علماء کرنے کے لئے کون سی اشد ضرورت پیش آگئی اليهود وفقهاء هم غضب الله تھی۔سو مجھے جاننا چاہئے کہ یہودیوں کے علماء اور عليهم كانوا ظانين ظن السوء فی اُن کے فقیہ اللہ کا غضب اُن پر نازل ہو ، وہ عیسی شان عیسی علیه السلام وكانوا علیہ السلام کی شان میں بدگمانی کرتے تھے اور کہتے يقولون إنه مفترى كذاب، وكان تھے کہ (نعوذ باللہ ) وہ مفتری اور کذاب ہیں اور مكتوبا في التوراة أن المتنبى تورات میں لکھا ہے کہ جھوٹا نبی صلیب دیا جاتا ہے الكاذب يُصلب ويُلعَن ولا يُرفع اور وہ ملعون ہوتا ہے اور سچے نبیوں کی طرح اُس إلى الله تعالى كالأنبياء الصادقين كا رفع اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا۔اس لئے فأرادوا أن يصلبوا المسيح ليثبتوا انہوں نے مسیح کو صلیب پر مارنا چاہا تا کہ احکامِ كذبه بحسب أحكام التوراة تورات کے مطابق وہ اُن کا جھوٹا ہونا ثابت کریں