حَمامة البشریٰ — Page 72
حمامة البشرى ۷۲ اردو ترجمه وما كان لهم أن يتكلموا في القرآن إلا حالانکہ ان کے لئے مناسب نہ تھا کہ قرآن میں خائفين۔وأنت تعلم أن الله مُنزَّه عن کلام کرتے لیکن ڈرتے ڈرتے۔اور تم جانتے ہو هذه الاضطرارات، و کلامه کله مُرتب کہ اللہ ایسے اضطراروں سے پاک ہے اور اس کے كالجواهرات، والتكلم في شأنه بمثل سب كلام جواہرات کی طرح مرتب ہیں۔اور اُس ذلك جهالة عظيمة، وسفاهة شنيعة کی شان میں ایسی بات کہنی بڑی جہالت اور وما يقع في هذه الوساوس إلا الذي بیوقوفی ہے اور ایسے وسوسوں میں بجز ایسے شخص کے نسى قدرة الله تعالی وقوته و حوله، کوئی بھی نہیں پڑتا کہ جو اُس کی قدرت اور طاقت واحتقره وما قدره حق قدره، وما عرف اور حفظ کو بھلا دے اور حقیر خیال کرے اور اس کی شأن كلامه، بل اجترأ وألحق كلام الله پوری قدر نہ کرے اور اس کی کلام کی شان۔جاہل ہو اور اس کو شاعروں کے کلام سے ملا دے۔بكلام الشاعرين۔بقية الحاشية - وظهر أن معنى التوفّى فى آية فَلَمَّا بقیہ حاشیہ تو اس سے آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي میں توفّی کے معنے توفيتي الإماتة لا غيرها من المعانى المنحوتة التی بخوبی کھل گئے کہ بجز موت کے اور معنے نہیں اور جو معنی من گھڑت بنائے لا أصل لها في لغة العرب فإن رسول الله صلى الله جاتے ہیں لغت عرب میں ان کی کوئی اصل نہیں ہے پس رسول اللہ اللہ عليه وسلم قد مات، ولو كان معناه الرفع إلى السماء وفات پاگئے ہیں اور اگر جسم زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اس کے معنے ہوتے حيا مع الجسم العنصرى كما هو زعم القوم لرفع تو جیسا قوم نے سمجھا ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرت یہ بھی [ صلى الله الا الله إذا نبينا إلى السماء حيا مع الجسم العنصري مع جسم عنصری زنده آسمان پر اٹھائے جاتے کیونکہ آپ نے اپنی ذات فإنه جعل نفسه شريك عيسى عليه السلام في لفظ مبارکہ کو عیسی کے ساتھ لفظ تو قی میں شریک کیا ہے جو آیت فَلَمَّا التوفي الذي يوجد في آية فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كما جاء في تَوَفَّيْتَنِی میں ہے جیسا کہ بخاری کی حدیث میں آیا ہے۔اور اگر ہم اپنی حديث البخارى۔ولوجعلنا من عند أنفسنا للمسيح طرف سے مسیح کے لئے آیت میں کوئی خاص معنے لے لیویں اور کہیں کہ آنحضرت کے حق میں توفی کے معنے وفات ہیں اور عیسی کے حق میں اس معنى خاصا في هذه الآية وقلنا إن التوفي في حق صلى الله رسولنا له هو الوفاة، ولكن في حق عيسى عليه السلام أريد منه الرفع مع الجسم العنصري لا کے معنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جانے کے ہیں اور یہ معنی عیسی سے مختص ہیں اور دوسرا کوئی ان میں شریک نہیں ہے تو یہ سخت ظلم اور شريك له في هذا المعنى، فهذا ظلم وزور وخيانة شنيعة، وترجيح بلا مرجّح، واستخفاف جھوٹ اور انتہائی بد نما خیانت اور ترجیح بلا مر ج ہے اور آنحضرت ما في شأن رسول الله صلى الله عليه وسلم، وادعاء کی شان عالی کا استخفاف ہے اور یہ ایک دعوی ہے جس پر نہ کوئی روشن بلا دليل واضح وحجة ساطعة وبرهان مبین دلیل ہے اورنہ کوئی چمکتی ہوئی حجت ہے۔اور نہ کوئی بین شہادت ہے۔