حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 46 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 46

حمامة البشرى ۴۶ र اردو ترجمه أيدعونني إلى الجهل والعمى بعدما کیا میرے بصیر ہونے کے بعد مجھے جہالت اور كنت من المتبصرين؟ والله إنی علی نابینائی کی طرف بلاتے ہیں۔اللہ کی قسم میں بصيرة من ربّي، وعندى شهادات اپنے رب کی طرف سے پوری بصیرت پر ہوں من الله وكتابه وإلهامه وكشفه، فهل اور خدا اور اُس کی کتابوں اور اُس کے الہام و من طالب يأخذ سهم رشده منی کشف سے بڑی شہادتیں ہیں۔کیا کوئی طالب ويأبى دواعي البخل والحسد، حق ہے جو مجھ سے اپنی ہدایت کا حصہ لے اور بخل ويقبل الحق كالمستر شدین؟ ولا [ اور حسد] سے دورر ہے اور سیدھے راہ کے تلاش أظن أحدا من العاملين العالمین کرنے والوں کی طرح حق کو قبول کرے۔اور المتقين أن يُقدّم غير القرآن علی میں تو کسی عالم با عمل پر بدگمانی نہیں کر سکتا کہ وہ القرآن، أو يضع القرآن تحت غیر قرآن کو قرآن پر مقدم کرے اور باوجود حديث مع وجود التعارض بينهما تعارض کے قرآن کو حدیث کے نیچے ڈال دے بقية الحاشية أقول هذا ما جاء في بقیہ حاشیہ۔میں کہتا ہوں کہ یہ وہ امور ہیں جو اختلاف اور الأحاديث مع اختلافات وتناقضات فذهب وَهُل تناقض کے ساتھ احادیث میں آئے ہیں پس بعض بلکہ اکثر بعض الناس بل أكثرهم إلى أن تلك الأخبار اسی طرف گئے ہیں کہ ان سے ظاہری معنے مراد ہیں۔اور حق والآثار محمولة على ظواهرها، والحق أنهم قد یہ ہے کہ انہوں نے بڑی خطا کی ہے اور یہ خدا تعالی کی طرف سے صابر مومنوں اور جلد باز مکذبوں کے امتیاز کے واسطے أخطأوا خطأ كبيرا، وكان هذا ابتلاءا من الله تعالى ليعلم الصابرين المؤمنين منهم والمكذبين ایک ابتلاء تھا۔اور تجھ کو معلوم ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی اپنے نبیوں المستعجلين۔وأنت تعلم أن الله تعالى قد يُوحى اور رسولوں کی طرف مجاز اور استعارہ اور تمثیل کے پیرایہ میں إلى أنبيــائــه ورســلــه فـــي حـلـل الـمجـازات وحی کرتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں اس والاستعارات والتمثيلات، ونظائره كثيرة في وحى خيــر الرسل صلى الله عليه وسلم منها ما کے نظائر بکثرت موجود ہیں۔منجملہ اُن کے ایک انس کی جاء في حديث أنس قال قال رسول الله صلعم حدیث ہے۔وہ بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رأيتُ ذات ليلة فيما يرى النائم كأنا في دار عقبہ نے فرمایا کہ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا کہ ہم عقبہ بن رافع ابن رافع، فأتينا برطب من رطب بن طاب کی حویلی میں ہیں اور ابن طاب کی کھجور میں ہمیں دی گئی ہیں