حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 370

حمامة البشرى ۳۷۰ اردو ترجمه اااام وَفِي يَدِ رَبِّى كُلُّ عِزَوَّسُؤْدَدٍ وَغَزِيْزُهُ مِنْ كَيْدِكُمْ لَا يُحَقَّرُ اور میرے رب کے ہاتھ میں ہی ہر عزت اور سردائی ہے اور جو اس کا خاص بندہ ہے وہ تمہاری تدبیروں سے حقیر نہیں ہوسکتا۔فَمَنْ ذَا يُعَادِينِي وَرَبِّى يُحِبُّنِي وَمَنْ ذَا يُرَادِيُنِي وَ رَبِّي مُعَزِّرُ پس کون ہے جو مجھ سے عداوت رکھے جب کہ میرا رب مجھ سے محبت کر رہا ہے اور کون ہے جو مجھ پر پتھر پھینکے جب کہ میرا رب میر امددگار ہے۔لَنَا كُلَّ يَوْمٍ نُصْرَةٌ بَعْدَنُصْرَةٍ وَيَأْتِي الْحَبِيبُ مَقَامَنَا وَيُبَشِّرُ ہمیں ہر روز نصرت کے بعد نصرت مل رہی ہے اور ہمارا حبیب ہمارے پاس آتا ہے اور بشارت دیتا ہے۔وَمَا أَنَا مِمَّنْ يَّمْنَعُ السَّيْفُ قَصْدَهُ فَكَيْفَ يُخَوِّفُنِي بِشَتُمٍ مُّكَفِّرُ اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں کہ تلوار اس کے ارادے کو روک سکے۔پس تکفیر کرنے والا کس طرح مجھے گالیوں سے خوف دلا سکتا ہے۔يَسُبُّ وَيَعْلَمُ أَنَّهُ يَتْرُكُ التَّقَى عَلى مِثْلِهِ الْوُفَّاظِ يَبْكِي الْمِنْبَرُ وہ گالی دیتا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ وہ تقویٰ چھوڑ رہا ہے۔اس جیسے واعظوں پر ہی منبر روتا ہے۔وَمَا إِنْ رَبَّيْنَا وَعُظَهُ غَيْرَفِتْنَةٍ وَمَا زَالَتِ الشَّحْنَاءُ تَنْمُرُ وَ تَكْفُرُ اور ہم نے اس کے وعظ کو فتنہ کے سوا کچھ نہ پایا اور دشمنی بڑھتی گئی اور بڑھ رہی ہے۔وَكَفَّرَنِي حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيَصْلَى بِحُبِّ الْكُفْرِ نَارٌ ايُسَعَرُ اور اس نے میری تکفیر کی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ کفر کی محبت کی وجہ سے ضرور بھڑکتی آگ میں داخل ہو گا۔عَجِبْتُ لَهُ لَا يَتْرُكَنَّ شُرُوْرَهُ وَذَكَرَهُ مِنْ كُلِّ نُصْحِ مُذَكِّرُ میں حیران ہوں کہ وہ اپنی شرارتوں کو نہیں چھوڑ رہا حالانکہ اسے نصیحت کرنے والے نے ہر قسم کی نصیحت کی ہے۔وَ مِنْ عَجَبِ الأَيَّامِ انِى كَافِرٌ بِأَعْيُنِ رَجُلِ حَاسِدٍ بَلْ أَكْفَرُ اور یہ زمانہ کے حیران کن امور میں سے ہے کہ میں کافر ہوں ایک حاسد آدمی کی نگاہ میں بلکہ اکفر ہوں۔وَ كَيْفَ أَخَافُ الْحَاسِدِينَ وَسَبَّهُمْ وَيَرْحَمُنِي رَبِّي وَيُؤْوِى وَيَنْصُرُ اور میں حاسدوں اور ان کے گالی دینے سے کس طرح ڈرسکتا ہوں جب کہ میرا رب مجھ پر رحم کر رہا ہے اور ( مجھے ) پناہ دے رہا ہے اور مدد دے رہا ہے۔أُحِبُّ مَصَائِبَ سُبُلِ رَبِّي وَإِنَّهَا لَأَطْيَبُ لِي مِنْ كُلِّ عَيْشِ وَأَطْهَرُ اپنے رب کی راہوں کے مصائب سے میں محبت رکھتا ہوں اور وہ میرے لئے ہر زندگی سے زیادہ خوشگوار اور پاکیزہ ہیں۔آيَا أَيُّهَا الْأَلْوَى كَسَبْعٍ تَغَيْظًا فَسَتَعْلَمَنُ فِي أَيِّ شَكْلٍ تُحْشَرُ اے درندے کی طرح غصہ کی حالت میں سخت دشمنی کرنے والے ! تو عنقریب جان لے گا کہ تو کس شکل میں اٹھایا جائے گا۔