حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 240 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 240

حمامة البشرى ۲۴۰ اردو ترجمه فتدبر ولا تكن من الغافلين پس تو غور کر اور غافلوں میں سے نہ ہو ئیں ههنا سؤال ينشأ طبعا في كل فهم * یہاں طبیعی طور پر فہم سلیم رکھنے والے شخص کے دل میں ایک۔سليم، وهو أن الملائكة۔۔هل يستطيعون سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرشتے کوئی کام جس کا انہیں حکم دیا جائے أن يفعلوا ما أمروا في مقدار وقت لا يكتفى اتنے وقت میں کر سکتے ہیں یا نہیں جو انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ لانتقالهم من مكان إلى مكان، بل يمضى منتقل ہونے کے لئے کافی نہ ہو۔بلکہ وہ اُن کے اپنے مقام پر کھڑا قبل أن يقوموا من مقامهم أو لا ؟ فإن قیل فی ہونے سے پہلے پہلے ختم ہو جائے؟ پس اگر اس کے جواب میں یہ کہا پہلے جوابه أنهم يستطيعون، فالنزول عبث وداخل جائے کہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں تو پھر نزول عبث اور تضیع في تضيع الأوقات، بل هو من أمارة العجز اوقات میں داخل ہوگا بلکہ وہ عجز کی علامت ہوگا۔بلکہ دراصل وہ بل الحق إنه نوع من العصيان والغفلة، ومن نا فرمانی اور غفلت کی قسم بن جائے گا۔اور جس نے جان بوجھ کر غفل متعمدا فقد عصى۔فإن قيل أنهم لا غفلت کی تو اُس نے نافرمانی کی۔اور اگر یہ کہا جاوے کہ وہ يستطيعون۔۔فهذا يوجب أن ينتظر اللـه (فرشتے) طاقت نہیں رکھتے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالى مطلوبه إلى مدة نزول الملائكة إلى فرشتوں کے زمین پر اترنے کی مدت تک اپنے مطلوب کی انتظار الأرض، ولا يخفى فساد هذا القول علی میں رہے اور اس بات کی خرابی نظمندوں سے مخفی نہیں۔پس یقیناً اللہ العقلاء ، فإن نقص الانتظار علی اللہ محال کے لئے انتظار کرنا ایک ایسا نقص ہے جو محال ہے اور یہ میچ نہیں کہ ولا يصح عليه أن يتطرق في إرادته حرج وفی اس کے ارادے میں کوئی روک رہ پا سکے۔اور اُس کی مشیت میں مشيئته توقف، ويأتي عليه زمان كالمنتظرين۔توقف ہو۔اور اُس پر کوئی زمانہ انتظار کرنے والوں کی طرح وارد فإن الوقت مقدار غير قار، فلا شك ان ہو۔پس وقت نہ ٹھہر نے والی مقدار ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت النزول غير جزء الذي كان هو وقت نزول کا وقت، قیام کے وقت اور خدائے علم کے کلام سننے کے المقام وسماع الكلام من الله العلام، وأنت وقت کے علاوہ وقت ہے۔اور تو جانتا ہے کہ اُس کی شان یہ ہے کہ تعلم أنما أمره إذا أراد شيئا فإنما يقول له جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اُسے کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہونے كن فيكون۔أتحسبون أن ملائكة الله كانوا لگتی ہے۔کیا تم خیال کرتے ہو کہ اللہ کے فرشتے سلیمان کے ساتھی أقل همة وقوة من صاحب سليمان الذي ما سے بھی کم ہمت اور کم طاقت رکھتے ہیں جو نہ تو اُن کے دربار سے قام من مجلسه وما نُقل إلى مكان وأتى اُٹھا اور نہ اُس نے نقل مکانی کی مگر سلیمان کی آنکھ کے جھپکنے سے بعرش بلقيس قبل أن يرتد طرف سليمان؟ پہلے ہی بلقیس کے تخت کو لا حاضر کیا۔پس غور کر کیونکہ عاقل را اشارہ فتدبّر، والإشارة مكتفية للعاقلين۔منه کافی است - منه