حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 239

حمامة البشرى ۲۳۹ اردو ترجمه فانظروا مثلا إلى ملك الموت الذي مثل ملك الموت کی طرف دیکھو جو لوگوں پر وكل بالناس كيف يقبض كل نفس فی مقرر کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح وقت مقدر میں ہر الوقت المقدر، وإن كان أحد من الذين جان قبض کرتا ہے خواہ ایک ہی وقت میں اُن مرنے يتَوَفَّون في آن واحد في أقصى المشرق والوں میں سے ایک شخص مشرق کے انتہائی کنارے والآخر في منتهى بلاد المغرب۔فلو میں اور دوسرا شخص مغربی علاقوں کے آخری كانت سلسلة هذا النظام الإلهي موقوفة کنارے میں رہتا ہو۔پس اگر نظام الہی کا یہ سلسلہ على نقل خطوات الملائكة من فرشتوں کے آسمان سے زمین کی طرف اور پھر السماء إلى الأرض، ثم من بلدة إلى ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک ملک۔بلدة، ومن مُلكِ إلى مُلكِ، لفسد دوسرے ملک کی طرف قدم اُٹھا کر جانے پر موقوف هذا النظام الأمرى، ولتطرّق حرج ہوتا تو حُكم الھی کا نظام تہ و بالا ہو جاتا اور اللہ عظيم في أمور قضاء الله وقدره، کے قضاء وقدر کے معاملات میں عظیم حرج راہ ولما كان لملك عند انتقاله من پالیتا۔اور کسی فرشتے کے لئے ایک جگہ سے دوسری مكان إلى مكان أن يأمن إضاعة جگہ منتقل ہونے میں یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ ضیاع وقت الوقت وفوت الأمر المقصود، ولَوَرَدَ کرنے اور امر مقصود کے فوت ہو جانے سے محفوظ في وقت من الأوقات مورد العتاب رہے۔اور وہ کسی نہ کسی وقت ضرور مور دعتاب بھی ولارهِقَ في يوم من الأيام بعتبة رب ہوتا اور کسی نہ کسی دن بر وقت کام نہ کرنے کی سے دور۔الأرباب لأجل ما فاته فعلُ الأمر علی پاداش میں وہ رَبُّ الأَرْبَاب کی چوکھٹ سے دو وقته، ولأخذ بأنواع العقاب۔وأنت پھینک دیا جاتا اور اُسے طرح طرح کی سزائیں تعلم أن شأن الملائكة منزّة عن ملتیں۔اور تو جانتا ہے کہ فرشتوں کی شان اس هذا، وهم يفعلون من غير مُكث سے پاک ہے۔اور وہ ہر کام بلا توقف کرتے وفعلهم فعل الله من غير تفاوت ہیں اور اُن کا فعل بلا تفاوت اللہ کا فعل ہوتا ہے۔