حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 14 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 14

حمامة البشرى ۱۴ اردو ترجمه وعرفت أنه يريد لأعرف أهل مكة اور میں نے معلوم کیا کہ وہ چاہتا ہے کہ مکہ والوں کو میں کچھ اپنے حالات بتاؤں۔لیکن من بعض حالاتی۔فما رضی قلبی میرا دل اس پر راضی نہ ہوا کہ میں ان کی بأن أكتب إليهم الأمر المجمل طرف مجمل اور پیچیدہ بات لکھوں بلکہ میں نے المطوى، بل أردت أن أبين بيانا چاہا کہ ایسا بیان لکھوں کہ جس سے ان کے دل تطمئن به قلوبهم، وتحصل لهم مطمئن ہو جا ئیں اور ان کو اچھی معرفت حاصل معرفة ويتقوى به رأیهم ووجدانهم ہو جائے۔اور اس بیان سے ان کی رائے اور وفراستهم، فغلب هذا القصد على وجدان اور فراست قوی ہو جائے اور یہ ارادہ قلبي، ونفث في روعى أسرار لأهل میرے دل پر غلبہ پاتا رہا اور میرے دل میں اہل مکہ کے لئے کچھ اسرار ڈالے گئے یہاں مكة، حتى امتلأت نفسی و نسمتی تک کہ میرا نفس اور روح اُن سے پُر ہو گیا اور بها، وكتبتها في مكتوب وأرسلت میں نے ان کو ایک خط میں لکھ کر بھیج دیا۔پھر إليهم، ثم بدا لي أن أرتبه بصورة مجھے یہ امر اچھا معلوم ہوا کہ اس کو بصورت رسالة وأشيعه في الناس بعد طبعه رساله مرتب کر کے بعد طبع لوگوں میں شائع کیا لينتفع به خلق، وليكون كسراج جائے تا کہ لوگ اس سے نفع اٹھا ئیں اور سچے منير للطالبين۔فالآن نشرع في طالبوں کے لئے روشن چراغ کا کام د المقصود، ونكتب أولا المكتوب اب ہم اصل مقصد کو شروع کرتے ہیں اُس خط کو لکھتے ہیں جو اہل مکہ سے ہمارے الذي جاء من أهل مكة، ثم نكتب پاس آیا تھا پھر ہم اُس خط کو لکھیں گے جو ہم مكتوبا أرسلنا إليهم، وما توفيقنا إلا نے ان کی طرف بھیجا اور بجز اللہ کے ہمیں کوئی بالله الذى يتولى عباده، وهو توفیق دینے والا نہیں جو اپنے بندوں کا متوتی أرحم الراحمين۔اور ارحم الراحمین ہے۔