حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 172

حمامة البشرى ۱۷۲ اردو ترجمه فاستدل بهذه الآية على موت پھر اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسول الله صلی الله علیه وسلم وفات پر اس بناء پر استدلال فرمایا کہ تمام انبیاء بناءً على أن الأنبياء كلهم قد ماتوا وفات پاگئے ہیں۔جب صحابہ نے (حضرت فلما سمع الصحابة قول الصديق ابوبكر صديق رضی اللہ عنہ کا یہ قول سنا تو کسی ایک رضى الله عنه ما رد أحد على قوله صحابی نے بھی آپ کے اس قول کی تردید نہ کی وما قال أحد له: أيها الرجل۔إنك اور نہ ہی کسی نے یہ کہا کہ اے شخص! تو نے جھوٹ كذبت أو أخطأت في استدلالك بولا ہے یا تو نے اپنے استدلال میں غلطی کی ہے۔أو ذكرت استدلالا ناقصا وما یا تو نے ناقص استدلال پیش کیا ہے اور تو صائب الرائے لوگوں میں سے نہیں۔كنت من المصيبين۔فلو كانوا معتقدين بأن عيسى پس اگر وہ اس بات پر اعتقاد رکھنے والے ہوتے حى إلى ذلك الزمان لردّوا کہ عیسی علیہ السلام اب تک زندہ ہیں تو وہ على أبى بكر ، وقالوا كيف (حضرت ابوبکر کی تردید کرتے اور کہتے کہ آپ اس تفهم من هذه الآية موت الأنبياء آیت سے تمام انبیاء کے وفات پانے کا مفہوم کیسے لے كلهم الا تعلم ان عیسی قد رہے ہیں؟ کیا آپ نہیں جانتے کہ عیسی تو آسمان کی رفع إلى السماء حيًّا ويأتي في طرف زندہ اُٹھالئے گئے ہیں اور وہ آخری زمانے آخر الزمان؟ فإذا كان عیسی میں آئیں گے؟ پس جب عیسی دوسری دفعہ دنیا راجعا إلى الدنيا مرة ثانية وأنت میں آنے والے ہیں اور آپ کا اس پر ایمان بھی تؤمن به، فأى حرج ومضايقة ہے تو پھر اس میں کیا حرج اور مضائقہ ہے کہ في أن يأتينا رسولنا صلى الله عليه ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے پاس ه وسلم أيضًا كما زعمه عمر۔۔(دوبارہ) تشریف لائیں جیسا کہ (حضرت) عمر نے الذي يجرى الحق على لسانه، خیال کیا ہے۔جن کی زبان پر حق جاری ہوتا ہے