حَمامة البشریٰ — Page 160
حمامة البشرى 17۔اردو ترجمه فإن الأنبياء قد يتكلمون في خلل کیونکہ انبیاء مجاز اور استعاروں کے لبادہ میں المجازات والاستعارات، ومثل کلام کرتے ہیں۔اور اس قسم کی مثالیں ذلك كثير فی کلام سیدنا ہمارے آقا ومولا خاتم النبیین کے کلام میں ومولانا خاتم النبيين، ومن هذا كثرت سے ہیں۔چنانچہ اس بارے میں الباب قوله صلى الله عليه وسلم إن آپ کا قول ہے کہ عیسی ابن مریم تم میں ضرور عيسى ابن مريم لينزلن فیکم نازل ہوں گے۔یعنی اُن کی صفات رکھنے يعنى يُبعث رجل منكم على صفته والا ایک شخص تم میں مبعوث ہوگا اور وہ عیسی کا فينزل منزلة عيسى فما فهم قائم مقام ہو گا۔لیکن اکثر لوگ ان دو أكثر الناس معنى هذين الحديثين، حدیثوں کے معنی نہیں سمجھے۔اور اُنہوں نے واعتقدوا أن عيسى الذى كان نبيًّا عقيدہ بنالیا کہ عیسی جو بنی اسرائیل کا ایک نبی من بني إسرائيل ينزل من السماء تھا وہی آسمان سے نازل ہوگا۔حالانکہ یہ ایک وإن هذا إلا خطأ مبين۔واضح غلطی ہے۔، ثم القرينة الثانية على خطأ أبى هريرة قَبْلَ مَوْتِه والی آیت کے بارے میں ابوھریرہ في آية: " قَبْلَ مَوْتِهِ “ ما جاء في قراءة کی غلطی پر دوسرا قرینہ اُبی بن کعب کی قراءت أبي بن كعب أعنى : مَوْتِهِمُ ، فإنه يقرأ يعنى مَوْتِهِم “ میں ہے۔کیونکہ وہ اس طرح پڑھا هكذا: وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ کرتے تھے۔وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِمُ فثبت من هذه القراءة بِه قَبْلَ مَوْتِهِمْ۔پس اس قراءت سے ثابت ہو گیا أن ضمير لفظ موته لا يرجع إلى عيسى كـ لفظ موتہ میں ضمیر و عیسیٰ علیہ السلام کی عليه السلام، بل يرجع إلى أهل طرف راجع نہیں بلکہ اہل کتاب کی طرف راجع ہے۔الكتاب۔فإلى أى ثبوتِ حاجةٌ بعد پس اُبی بن کعب کی قراءت کے بعد طالبان حق قراء ة أُبي بن كعب لقوم طالبين۔کے لئے اور کس ثبوت کی ضرورت ہے؟