حَمامة البشریٰ — Page 158
حمامة البشرى ۱۵۸ اردو ترجمه وما ثبت أن ماخذ قوله من مشكاة اور یہ ثابت نہیں ہوا کہ ان کے قول کا ماخذ مشکوۃ النبوة والسنة المطهرة، بل هو نبوت اور سُنتِ مطہرہ ہے بلکہ وہ ایک سطحی رائے رأى سطحي، وكان رضي الله عنه الله عنه ہے اور آپ نے اپنے بعض اجتہادات میں اکثر كثير الخطأ في بعض اجتهاداته غلطی کھائی ہے۔جس طرح کہ آپ کی خطا اُس كما ثبت خطأه فی حدیث ذکره حدیث میں ثابت ہے جس کا امام بخاری نے اپنی البخاري في صحیحه، قال حدثنی صحیح میں ذکر کیا ہے۔وہ فرماتے ہیں کہ: مجھے عبدالله بن محمد قال حدثنا عبد الله بن محمد نے کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے عبد الرزاق قال أخبرنا معمر عن بیان کیا کہ مجھے معمر نے زہری کے واسطہ سے بتایا الزهري عن سعيد بن مسيب عن أبى كه سعيد بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ سے هريرة قال ان النبی صلی اللہ علیہ روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ وسلم قال: ما من مولود يولد إلا علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا مگر والشيطان يمسه حين يولد، فيستهل شیطان اسے پیدائش کے وقت چھوتا ہے۔اور وہ صارخا من مس الشيطان إياه إلَّا مريم شيطان کے اس چھونے سے چیخ اُٹھتا ہے۔وابنها، يقول أبو هريرة واقرأوا إن سوائے مریم اور اُن کے بیٹے کے۔ابوھریرہ کہتے شتم: وَ إِنِّي أَعِيْدُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا ہیں کہ اگر تم چاہو تو تم آیت وَ إِنِّي أَعِيْنُهَا بِكَ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ هذا ما زعم وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ پڑھو۔یہ ہے جو أبو هريرة، ولكن الذي اغترف ابوھریرہ نے سمجھا لیکن وہ شخص جس نے کلام اللہ کے شيئا مـن بـحـر کـلام الله فيعلم سمندر سے چلو بھر بھی لیا ہوتو وہ بالبداہت جانتا ہے بالبداهة أن هذا الزعم فاسد، ويعلم أن كه يه خيال فاسد ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ابوھریرہ أبا هريرة استعجل في هذا الرأي، وما نے اس رائے میں جلد بازی کی ہے۔اور اُنہوں نے أرصد نفسه لشهادة بيِّئاتِ القرآن قرآنی بینات کی گواہی کو گہری نظر سے نہیں دیکھا ے اور میں اسے اور اس کی اولا د کو مردود شیطان کے حملہ) سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(آل عمران: ۳۷)