حَمامة البشریٰ — Page 140
حمامة البشرى ۱۴۰ اردو ترجمه أحد هما إذا كانت تلك الأقوام اُن میں سے ایک (وجہ ) یہ ہے کہ جب وہ اقوام الذين أُرسل إليهم رسول جن کی طرف کوئی رسول یا محدث بھیجا جاتا ہے أو مُـحـدث ضـعـفـاء غير قادرين کمزور ہوں اور وہ کسی کو ایذا پہنچانے پر قدرت على إيذاء أحد، فلا يظلمون نہ رکھتی ہوں تو ظلم کی طاقت نہ رکھنے اور گرفت، المرسلين لعدم قدرة الظلم وفقدان قتل اور خون بہانے کے اسباب نہ رکھنے کی وجہ أسباب البطش والقتل والسفك سے وہ رسولوں پر ظلم نہیں کرتے۔اور اللہ جانتا الله أنهم مع خبث نفسهم ہے کہ وہ خبث باطن اور فریب کاریوں کی فراوانی ويــرى وكثرة مـكـائـدهـم لا يستطيعون کے باوجود کسی کو ایذا دینے اور کسی مصلح پر ظلم کرنے أن يؤذوا أحدًا ويظلموا کی طاقت نہیں رکھتے۔اور وہ دیکھتا ہے کہ وہ کمزور مصلحا، ويرى أنهم مستضعفون اور مغلوب ہیں۔اور کبھی اس کمزوری کی وجہ اُن مغلوبون۔وقد يكون سبب کے وہ تنازعات ہوتے ہیں جو اُن میں پیدا ہو هذا الضعف مشاجرات وقعت جاتے ہیں اور وہ ( تنازعے) اُن کی طاقت بينهم وسلبت طاقتهم، وقد سلب کر لیتے ہیں۔اور کبھی اس کی وجہ کسی دوسری يكون سببه استيلاء قوم آخرین قوم کا (اُن پر غلبہ ہوتا ہے ے اور کبھی وقد يجتمعان فیزیدان عجزا دونوں باتیں جمع ہو جاتی ہیں جو اُن کی بے بسی وضعفا۔وثانيهما: إذا كانت اور کمزوری میں اضافہ کر دیتی ہیں۔ان دو تلك الأقوام مُهذبين مع میں سے دوسری وجہ یہ ہے کہ جب یہ قومیں كونهم ملوكا وسلاطين، فلا ملوک سلاطین ہوتے ہوئے بھی مہذب ہوتی يمنعون رُسُلَ الله من دعواتهم ہیں تو وہ اللہ کے رسولوں کو اُن کی تبلیغ سے نہیں ولا يظلمون ولا يؤذون، بل روکتیں اور نہ ظلم کرتی ہیں اور نہ دکھ دیتی ہیں تكون حكومتهم حكومة الأمن بلکہ ان کی حکومت پر امن حکومت ہوتی ہے۔