حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 50 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 50

حمامة البشرى ۵۰ اردو ترجمه بل هم يأمرون تحكما ويقولون ظلما بلکہ وہ تو تو جبر جبر اور اور ظلم سے حکم دیتے ہیں کہ ان الأحاديث بجميع صورها الظنية - احادیث اپنی سب ظنی اور شکی صورتوں کے والشكية أحق قبولا من القرآن وحاكمة ساتھ قرآن کی نسبت قبول کرنے کے زیادہ عليه۔ وإن هو إلا ظلم وزور تكاد لائق ہیں اور وہ قرآن پر حاکم ہیں اور یہ ایسا السماوات يتفطرن منه۔ ولا يوجد في ظلم اور جھوٹ ظلم اور جھوٹ ہے کہ قریب ہے کہ آسمان اس القرآن وحدیث رسول الله صلى الله سے پھٹ جائیں اور قرآن اور حدیث میں عليه وسلم إيماض إلى ذلك، ولا ان بہتانوں کی طرف کوئی اشارہ نہیں پایا إيماء إلى هذه البهتانات، بل جاتا ۔ بلکہ صحابہ ہر حالت میں قرآن کو مقدم الصحابة كانوا يقدمون القرآن فی کرتے تھے اور کسی ایسی حدیث سے اس کو ☆ كل حال ولا يتركونه لأثر من الاحاد۔ جو احاد کی قسم سے ۔ ترک نہ کرتے تھے جو احاد سے ہے۔ ۱۵ بقية الحاشية ولكن هؤلاء يخرجون من بقیہ حاشیہ ۔ لیکن قیدوں سے نکل آئے ہیں اور خدا نے ان ذلك السجن، ويضع الله عنهم أغلالهم، کے طوقوں کو دور کر دیا ہے اور وہ نکلنے کے بعد دائیں بائیں فيعيثون يمينا وشمالا ويفسدون في پھریں گے اور زمین میں فساد کریں گے اور ان کا خروج الأرض، وكان خروجهم بلاء عظيما لأهل مخلوق کے لئے بلاء عظیم ہو گا۔ پس جس طرح کہ تمیم داری الأرضين۔ فكما أن تميما رأى الدجال في نے آنحضرت کے زمانہ میں سچی اور کشفی رویا میں دجال کو زمان النبي صلى الله عليه وسلم بالرؤية دیکھا تھا جو عالم مثال کی قسم سے تھا کہ اس کے ہاتھ الكشفية الصادقة التي كانت من قبيل عالم المثال۔۔ مجموعة يده إلى عنقه ما بين شانوں تک باندھے ہوئے دونوں گھٹنوں اور ٹخنوں کے درمیان زنجیر سے جکڑا ہوا معبد میں پڑا ہوا ہے نصاری ركبتيه إلى كعبيه بالحديد في الدير کی حالت بھی اسلام کے اقبال کے زمانہ میں ایسی تھی کہ فكذلك كانت النصارى في زمن إقبال الإسلام مقهورين مغلوبين غلت أيديهم وہ مغلوب اور مقہور اور دست و پا بستہ اپنے گر جاؤں میں قاعدين في الدير ، ثم أخرجوا بعد المائتين بیٹھے ہوئے تھے پھر بارھویں صدی کے بعد وہ نکالے گئے والألف ووضع الله عنهم الأغلال والسلاسل، اور اللہ تعالیٰ نے اُن کی زنجیریں اور طوق اتار دیئے انظروا حديث معاذ الذي فيه وصيّة حمد معاذ کی اس حدیث پر بھی غور کرو جس میں رسول اللہ صلی اللہ رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ۔ منه علیہ وسلم کی وصیت ہے۔ منہ