حَمامة البشریٰ — Page 49
حمامة البشرى ۴۹ اردو ترجمه ثم ذهلت هذه الطائفة تلك الضابطة پھر یہ گروہ اس مبارک ضابطہ کو ایسے بھولے گویا المباركة كأنهم لا يعلمون شيئا وكأنهم وہ اس سے بے علم اور جاہل تھے اور میں یقیناً من الجاهلين۔وَإنِّي أرى أنهم لا يعتقدون جانتا ہوں کہ وہ قرآن کو زندہ کلام اور سچا امام بأن القرآن كلام حى، وإمام صادق اور حق کا نگہبان اور معیار کامل نہیں جانتے بلکہ ومهيمن، و معيار كامل، بل يحقرونه | اس کی حقارت کرتے ہیں اور حدیثوں کے ۱۲ ويضعونه تحت أقدام الأحاديث قدموں کے نیچے ڈالتے ہیں اور احادیث کو ويجعلون الأحاديث قاضية عليها قرآن پر قاضی مقرر کرتے ہیں اس سے پہلے کہ من قبل أن يُفتشوا الآثار حق تفتيشها، وہ اس کی تفتیش کر لیتے [ جیسا کہ تفتیش کا حق ويثبتوا موازنة القطعيات بالقطعیات تھا اور قطعیات کا قطعیات سے موازنہ کر لیتے بقية الحاشية - فوجب من هذا على كل مؤمن بقیہ حاشیہ۔پس اس سے ہر ایک مومن پر لازم ہے کہ وہ اس أن يؤمن بموت الدجال بعد المائة من زمان رسول پر ایمان لاوے کہ آنحضرت کے زمانہ کے بعد صدی کے الله صلى الله عليه وسلم، وإلا فكيف يمكن اندر اندر دجال ضرور مرگیا ہے۔کیونکہ آنحضرت کے ایسے التخلف فيما قال رسول الله صلى الله علیه وسلم ارشاد کا کب خلاف ہوسکتا ہے جو وحی الہی سے اور مؤکد بہ بـوحـي مـن الله تعالى مؤكدًا بقسمه؟ والقسم حلف ہو۔اور قسم صاف بتاتی ہے کہ یہ خبر ظاہری معنوں پر يدل على أن الخبر محمول علی الظاهر لا تأویل محمول ہے نہ اس میں کوئی تاویل ہے اور نہ استثناء ہے ورنہ فيه ولا استثناء ، وإلا فأي فائدة كانت فی ذکر قسم میں کون سا فائدہ ہے۔پس محققوں اور تفتیش کرنے القسم؟ فتدبَّرُ كالمفتشين المحققين۔وأما والوں کی طرح خوب سوچ سمجھ لے اور ان دو حدیثوں میں تطبيق هذين الحديثين فلا يمكن إلا بعد تأويل بجز اس کے تطبیق ممکن ہی نہیں کہ دجال والی حدیث کو از فقسم حديث الدجال وجعله من قبيل الاستعارات استعارات قرار دے کر اس میں تاویل کی جاوے [ پس ہم فنقول إن حديث خروج الدجال يدلّ علی کہتے ہیں کہ خروج دجال کی حدیث نصاریٰ کے ایک خروج طائفة الكذابين في آخر الزمان من قوم کذاب گروہ کے اخیر زمانہ میں نکلنے پر دلالت کرتی ہے اور النصارى، وفي الحديث إشارة إلى أنهم يُشابهون حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دھوکوں اور آباء هم المتقدمين في مكرهم وخديعتهم وأنواع فریبوں اور قسم قسم کے فتنوں اور لوگوں کے گمراہ کرنے کی فتنهم وحرصهم على إضلال الناس كأنهم هم إلا حرص میں وہ اپنے آباء واجداد کے ایسے مشابہ ہوں گے کہ أن آباء هم كانوا مقيدين بالسلاسل و الأغلال، گویا یہ اب وہی ہیں جو طوقوں اور زنجیروں میں مقید تھے