حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 48 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 48

حمامة البشرى وإن المسلمين وعلماء هم الراسخين كانوا قد أمروا أن يتبعوا البينات، ويجتنبوا الشبهات، وكانوا ۴۸ اردو ترجمه اور سب مسلمان اور علماء راسخین یہی حکم کئے گئے تھے کہ بینات کی پیروی کریں اور شبہات کو ترک کریں اور وہ جانتے ہیں کہ بینات ہی اتباع کے لائق ہیں يعلمون أن البينات أحقُّ أن تُتَّبَعَ۔ وإنما البينات هي المعاني التي قد انكشفت اور بینات ہی وہ معانی ہیں جو عقل سلیم کے آگے وتبينت عند العقل السليم، وتواترت کھلے اور واضح ہیں اور قرآن میں متواتر طور في القرآن العظيم، ووجدت أقرب پر آئے اور فہم [ مستقیم] سے نزدیک تر اور تناقض من الفهم المستقيم، وأبعد عن آفات التناقض وأدخل في سُنّة الله والقانون سے بعید تر ہیں اور سنت اللہ اور قدیم قانون قدرت القديم، وأجلى وأظهر من معان أخرى۔ میں داخل اور [ دیگر] معانی سے روشن تر ہیں۔ بقية الحاشية - وزعم القوم أنه يخرج فی بقیہ حاشیہ۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ وہ آخری زمانہ میں نکلے گا اور ہر آخر الزمان، ولا يدع قرية إلا يدخلها، بستی میں داخل ہوگا اور سب بلاد پر غالب ہو جائے گا۔ اور سوائے ويتملك ويتسلّط على البلاد كلها، ولا تبقى في زمانه أرض إلا يأخذها غير مكة مکہ مدینہ کے اور سب زمین لے لے گا۔ لیکن اور حدیثیں ان قصوں وطيبة۔ ولكن الأحاديث الأخرى تعارضها کی تکذیب کرتی ہیں ۔ پہلے تو تدبر اور انصاف سے مسلم کی حدیث وتكذب هذه القصص۔ فانظر أولا تدبّرًا پر نظر کر جو جابر سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے وفات سے وإنصافا في حديث مسلم۔ عن جابر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم یقول ایک مہینے پہلے آنحضرت کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم مجھ سے قبل أن يموت بشهر تَسْأَلُونِي عَنِ السَّاعَةِ؟ قیامت کی بابت پوچھتے ہو اسکا علم تو اللہ کو ہی ہے اور میں حلفاً کہتا وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ۔ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَة سَنَةٍ وهي حية يومئذ۔ ہوں کہ اس وقت روئے زمین پر جو لوگ زندہ ہیں صدی کے گزرنے تک ان میں سے ایک جی بھی ہرگز زندہ نہ رہے گا۔ وعن ابن مسعود لا يأتي مائة سنة وعلى اور ابن مسعود سے مروی ہے کہ صدی کے گزرنے الأرض نفس منفوسة اليوم۔ رواه مسلم تک موجودہ لوگوں سے روئے زمین پر کوئی بھی نہ ہو وهكذا ذكر البخاري في صحيحه گا اور بخاری نے بھی اپنی صحیح میں ایسا ہی ذکر کیا ہے والمضمون واحد لا حاجة إلى الإعادة۔ اور چونکہ مضمون واحد ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔