حَمامة البشریٰ — Page 332
حمامة البشرى ۳۳۲ اردو ترجمه فكم من حرى أن تقبل القرآن تو تیرے لئے یہ کہیں زیادہ مناسب ہوگا کہ تو اليقيني القطعي الذي لا يأتيه قرآن کو قبول کرے جو ایسا ایسا قطعی اور یقینی ہے کہ الباطل من بين يديه ولا من باطل نہ تو اُس کے سامنے سے آ سکتا ہے اور نہ اُس خلفه، إن كنت تريد أن تتبع کے پیچھے سے۔ اگر تو یقین کی راہوں کی پیروی کرنا سبل اليقين۔ چاہتا ہے۔ ومن اعتراضاتهم أنهم قالوا إن هذا اور اُن کے اعتراضوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ الرجل لا يؤمن بأن المسيح كان کہتے ہیں کہ یہ شخص ایمان نہیں رکھتا کہ مسیح پرندوں خالق الطيور وكان محيى الأموات کا پیدا کرنے والا اور مردوں کو زندہ کرنے والا اور وكان في العصمة مخصوصًا متفردا عصمت میں مخصوص و منفرد اور مس شیطان سے محفوظا من مس الشيطان لا يشابهه محفوظ تھا۔ نیز اس وصف میں انبیاء میں سے کوئی في هذه الصفة أحد من النبيين۔ اُس سے مشابہ نہیں ہے۔ أما الجواب فاعلم أنا اس (اعتراض) کا جواب یہ ہے کہ تو جان نؤمن بإحياء إعجازی لے کہ ہم (عیسی کے ) اعجازی احیاء اور اعجازی وخلق إعجازي، ولا نؤمن خلق پر ایمان لاتے ہیں۔ اور ہم اسے حقیقی احیاء بإحياء حقيقي و خلق حقیقی اور حقیقی خلق نہیں مانتے۔ جو اللہ کے زندہ كإحياء الله وخلق الله، ولو کرنے اور اللہ کے پیدا کرنے کے مشابہ ہو۔ اور كان كذلك لتشابه الخلق اگر ایسا ہوتا تو خلق اور احیاء میں مشابہت ہو جاتی والإحياء ، وقال الله سبحانه حالانکہ اللہ سبحانہ نے فرمایا ہے کہ فَيَكُونَ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ ، وما طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ ۔ اور یہ نہیں فرمایا کہ فَيَكُونُ حَيًّا قال فيكون حيا بإذن الله بأذن الله کہ وہ اللہ کے اذن سے زندہ ہو جاتا تھا۔ لے وہ اللہ کے حکم سے پرندہ (یعنی طیر روحانی) بن جائے گا۔ (ال عمران:۵۰) L