حَمامة البشریٰ — Page 276
حمامة البشرى ۲۷۶ اردو ترجمه ولولاها لاختلت مصالح العالم اور اگر یہ موسم نہ ہوتے تو دنیا کے کاروبار کلیہ مختل بالكلية۔ وقد ذكرنا منافع الشمس ہو جاتے اور ہم نے آفتاب و ماہتاب کے فوائد والقمر بالاستقصاء في أوّل اس کتاب کے شروع میں پوری تحقیق کے ساتھ هذا الكتاب۔ بیان کر دیتے ہیں ۔“ 66 تم كلامه، فتفكر فيه ولا تمر بها امام رازی کا کلام پورا ہوا۔ پس تو اس بارے كالنائمين۔ میں غور کر اور خوابیدہ لوگوں کی طرح ( پاس سے ) گزر نہ جا۔ وقال صاحب حجة الله البالغة حجة اللہ البالغہ“ کے مصنف (حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی) فرماتے ہیں کہ :۔ وو أما الأنواء والنجوم فلا يبعد أن جہاں تک علم انواء اور علم نجوم کا تعلق ہے تو یہ بعید يكون لهما حقيقة، فإن الشرع إنما نہیں کہ ان دونوں کی کوئی حقیقت ہو کیونکہ شریعت نے أتي بالنهي عن الاشتغال به لا نفی صرف ان میں مشغول ہونے سے منع کیا ہے قطعی حقیقت ہا الحقيقة البتة۔ وإنما توارث من کی نفی نہیں کی۔ سلف صالح سے یہی بات متوارث چلی السلف الصالح ترك الاشتغال به آتی ہے کہ ان علوم میں انتہاک کو ترک کیا جائے اور وذم المشتغلين وعدم القبول ان میں منہمک لوگوں کی مذمت کی گئی ہے اور ان تاثیرات بتلك التأثيرات لا القول بالعدم کو قبول نہ کرنا ثابت ہے نہ یہ کہ ان کی اصلیت کا کلیہ أصلا وإن منها ما يلحق البديهات انکار، کیونکہ ان میں سے بعض تأثیرات ایسی ہیں الأولية كاختلاف الفصول جو بنیادی بدیہیات میں سے ہیں جیسے سورج باختلاف أحوال الشمس والقمر اور چاند کے حالات کے اختلاف سے موسموں کا ونحو ذلك، ومنها ما يدل عليه بدلنا وغیرہ اور ان میں سے بعض باتیں ایسی ہیں الحدس والتجربة والرصد ۔۔ جن پر فراست، تجربہ اور مشاہدہ دلالت کرتے ہیں