حَمامة البشریٰ — Page 201
حمامة البشرى ۲۰۱ اردو ترجمه لأن المواعيد التي ذكرت فی کیونکہ وہ وعدے جن کا اس آیت میں بالترتیب هذه الآية بالترتيب قد وقعت ذکر ہوا ہے وہ (وعدے) وقوع پذیر ہو چکے ہیں وتمت كلها على ترتيبها اور وہ سارے کے سارے اُسی ترتیب سے پورے الذي يوجد في تلك الآية ہوئے ہیں جو اس آیت میں پائی جاتی ہے۔ بقية الحاشية صفحه ۱۹۴ـ وكانوا يستدلون بقیہ حاشیہ صفحہ ۱۹۴ ۔ اور وہ ( غضب اللہ علیہم ) ان کے (غضب الله عليهم ) على ملعونيته عليه مصلوب ہونے سے اُن علیہ السلام کے ملعون ہونے پر استدلال السلام من مصلوبيته، فإن المصلوب ملعون کرتے تھے۔ کیونکہ ان کے دین کی رو سے مصلوب ملعون غير مرفوع في دينهم كما جاء في التوراة ہوتا ہے، مرفوع نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ تو رات کی کتاب في كتاب الاستثناء ۔ فأراد الله تعالى أن استثناء میں آیا ہے ۔ سو اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے يُبرء نبيه عيسى من هذا البهتان الذي بنى نبی عیسی کو اس بہتان سے بری قرار دے جو توراۃ کی ایک على آية التوراة وواقعة الصلب، فإن التوراة آیت اور واقعہ صلیب کی بناء پر لگایا گیا تھا۔ کیونکہ توراۃ يجعل المصلوب ملعونا غير مرفوع إذا كان مصلوب کو ملعون قرار دیتی ہے، مرفوع نہیں ۔ جب وہ يدعى النبوة ثم مع ذلك كان قتل وصلب، نبوت کا دعویدار ہو اور مزید برآں وہ قتل کیا گیا ہو اور فقال عز وجل لذب بهتانهم عن عيسى صلیب دیا گیا ہو۔ پس الله عز وجل نے عیسیٰ سے ان کا مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ۔ بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ بہتان دور کرنے کے لئے فرمایا : مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ ۔ يعنى الصلب الذى يستلزم الملعونية وع ونية وعَدْمَ بَلْ زَفَعَهُ الله إِلَيْهِ لے یعنی صلیب دیا جاتا جو تو راہ کے حکم الرفع من حكم التوراة ليس بصحيح، بل رفع کی رو سے ملعونیت اور عدم رفع کو مستلزم ہے درست نہیں ۔ الله عيسى إليه، يعنى إذا لم يثبت الصلب بلکہ اللہ نے عیسیٰ کو اپنے حضور رفعت بخشی مطلب یہ کہ جب والقتل لم يثبت الملعونية وعدم الرفع، فثبت صلیب دیا جانا اور قتل کیا جانا ثابت نہ ہوا تو ملعون ہونا اور الرفع الروحاني كالأنبياء الصادقين وهو عدم رفع بھی ثابت نہ ہوا۔ پس صادق انبیاء کی طرح ( ان المطلوب۔ هذه حقيقة هذه القصة، وما كان کا ) روحانی رفع ثابت ہو گیا اور یہی مقصود ہے۔ یہ ہے ههنا جدال ونزاع في الرفع الجسماني، وما ساری حقیقت اس قصے کی ۔ یہاں جھگڑا اور نزاع جسمانی كان هذا الأمر تحت بحث اليهود أصلا، رفع کا نہ تھا اور نہ ہی یہ معاملہ دراصل یہود کے زیر بحث تھا۔ لے وہ یقینا اسے قتل نہیں کر سکے اور نہ اسے صلیب دے کر مار ) سکے ۔ بلکہ اللہ نے اپنی طرف اس کا رفع کر لیا۔ (النساء: ۱۵۹،۱۵۸)