حَمامة البشریٰ — Page 359
حمامة البشرى ۳۵۹ اردو ترجمه تُرِيدُ لِتُهْلِكَ فِي التَّغَافُلِ أَهْلَهَا وَقَدْ عُقِرَتْ هِمَمُ النِّعَامِ وَ تُعْقَرُ وہ چاہتی ہے کہ اہل دنیا کو غفلت میں ہی ہلاک کر دے اور کمینوں کی ہمتیں پست ہو چکی ہیں اور ان کی کونچیں کاٹی جارہی ہے۔وَ الْهَتْ عَنِ الدِّينِ الْقَوِيمِ قُلُوبَهُمْ فَمَالُوا إِلى لَمَعَاتِهَا وَتَخَيَّرُوا اور دنیا نے ان کے دلوں کو بچے دین سے غافل کر دیا ہے پس وہ اس کی چمک دمک پر لٹو ہو کر اسی کے ہو رہے ہیں۔تَقُودُ إِلى نَارِ اللَّظى وَجَنَاتُهَا وَلَمَعَاتُهَا تُصْبِي الْقُلُوبَ وَتَخْتِرُ اس کے رخسار شعلوں والی آگ کی طرف کھینچ کے لے جاتے ہیں اور اس کی چمک دمک دلوں کو مائل کرتی اور دھوکا دیتی ہے۔وَتَدْعُو إِلَيْهَا كُلَّ مَنْ كَانَ هَالِكًا فَكُلٌّ مِّنَ الْاَحْدَاثِ يَدْنُو وَيَخْطِرُ اور اپنی طرف ہر اس شخص کو جو ہلاک ہونے والا ہو دعوت دیتی ہے۔پس نو جوانوں میں سے ہر ایک اس کے قریب ہو رہا ہے اور جھوم رہا ہے۔مِيْسُ كَبِكْرِ فِي نِقَابِ الْمَكَائِدِ وَتُبْدِى وَمِيْضًا كَاذِبًا وَّتُزَوِّرُ وہ (دنیا) کنواری کی طرح مکروں کے نقاب میں مٹک کر چلتی ہے۔اور جھوٹی چمک دمک ظاہر کرتی ہے اور دھوکا دیتی ہے۔وَ دَقَّتْ مَكَائِدُهَا فَلَمْ يُدْرَ سِرُّهَا لِمَا نَسَجَتُهَا مِنْ فُنُونٍ تُكَوِّرُ اور اس کے مکر باریک ہیں پس اس کا بھید نہیں جانا جاسکتا اس لئے کہ اس نے ان کا حال ایسی حیلہ سازیوں سے بنا ہے جنہیں وہ چھپارہی ہے۔وَتَبْدُو كَتُرُسٍ فِي زَمَانٍ بِكَيْدِهَا وَفِي سَاعَةٍ أُخْرَى حُسَامٌ مُشَةً اور کبھی تو وہ اپنے فریب سے ڈھال کی طرح سامنے آتی ہے اور دوسری ہی گھڑی وہ کچھی ہوئی تلوار ہوتی ہے۔وَعَيْنٌ لَّهَا تُصْبِي الْوَرى فَتَّانَةٌ وَلِقَتْلِ أَهْلِ الْفِسْقِ كَشْحٌ مُّخَصَّرُ اور اس کی فتنہ پرداز آنکھ مخلوق کو اپنی طرف مائل کرتی ہے اور فاسقوں فاجروں کے قتل کے لئے وہ دنیا پتلی کمر والی حسینہ ) ہے۔عَجِبْتُ لِمَنْظَرِ ذَاتِ شَيْبٍ عَجُوزَةٍ أَنِيقٌ لِعَيْنِ النَّاظِرِينَ وَ أَزْهَرُ مجھے حیرت ہے اس عاجز بڑھیا کے منظر پر جو دیکھنے والوں کی نگاہ میں خوبصورت اور روشن جمال ہے۔لَزِمُتُ اصْطِبَارًا إِذْ رَأَيْتُ جَمَالَهَا فَقُلْتُ اِلهى اَنْتَ كَهْفِي وَمَأْزَرُ میں نے صبر کولازم کر لیا جب میں نے اس کے جمال پر اطلاح پائی۔میں نے کہا میرے خدا! تو ہی میر اطباء اور مادی ہے۔فَصَيَّرَهَا رَبِّي لِنَفْسِي سُرِّيَّةٌ كَجَارِيَةٍ تُلقى بِطَوْعِ وَتُهجَرُ (١٠٠) سو میرے رب نے اسے میرے لئے لونڈی بنا دیا۔ایسی لونڈی کی طرح جس سے وصال اور جدائی خود اپنی مرضی سے اختیار کی جاتی ہے۔وَذَلِكَ فَضْلٌ مِنْ كَرِيمٍ وَمُحْسِنٍ وَيُعْطِي الْمُهَيْمِنُ مَنْ يَّشَاءُ وَيَحْجُرُ اور کریم اور محسن خدا کی طرف سے یہ ایک فضل ہے اور نگران خدا جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور (جس سے چاہتا ہے ) روک لیتا ہے۔