حَمامة البشریٰ — Page 347
حمامة البشرى ۳۴۷ اردو ترجمه ورأيتك كانك شيء ، ونسيت اور اپنے تئیں کچھ سمجھنے لگے اور تو اس خالق کو بھول الخالق الذى مَنَّ عليك فهذا جائے جس نے تجھ پر احسان کیا۔تو یہ خود کو مزکی تزكية النفس ، ولكنك إذا عزوت ٹھہرانا ہے لیکن جب تو اپنے کمال کو اپنے رب کی كمالك إلى ربك، ورأيت كل طرف منسوب کرے اور ہر نعمت کو اس کی طرف سے نعمة منه، وما رأيت نفسك عند سمجھے اور کمال کو دیکھتے وقت اپنے نفس کو نہ دیکھے بلکہ رؤية الكمال بل رأيت في كل ہر طرف اللہ کی طاقت اور قوت اور اُس کا احسان طرف حول الله وقوته ومنه اور فضل دیکھے اور اپنے آپ کو ایک ایسے مُردے کی وفضله، ووجدت نفسك كميت طرح سمجھے جو غسال کے ہاتھ میں ہو۔اور تو (اپنے) في يد الغسال، وما أضفت إليها نفس كى طرف کوئی کمال منسوب نہ کرے تو یہ شيئا من الكمال، فهذا هو إظهار اظہار نعمت ہے۔پس جن لوگوں کے دلوں میں بیماری النعمة۔فالذين في قلوبهم مرض ہے وہ جلدی سے اعتراض کی طرف بھاگتے ہیں يسعون إلى الاعتراض مستعجلين، اور وہ شکرگزار ماموروں اور باطل پرست ریا کاروں ولا يفرقون بين الشاکرین کے درمیان فرق نہیں کرتے اور اس طرح ان دونوں المأمورين والمرائين البطالين (تزکیہ نفس اور اظہار نعمت) کے ایک جیسے ہونے کی ويلتبس عليهم الأمر من القرين۔وجہ سے معاملہ اُن پر مشتبہ ہو جاتا ہے۔اُن کے وهذا آخر كلامنا فی رد اعتراضات کے جواب میں یہ ہمارا آخری قول ہے اعتراضاتهم، والله يحكم بيننا اور اللہ ہمارے اور اُن کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وبينهم، وهو خير الحاكمين۔وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔واعلم أن لهم اعتراضات اور جان لے کہ اس کے علاوہ اُن کے بعض ركيكة غير ذلك، بل كل دقيقة اور رکیک اعتراضات بھی ہیں۔بلکہ معرفت المعرفة في نظرهم محل اعتراض کا ہر نکتہ اُن کی نظر میں محل اعتراض ہے۔