حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 251 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 251

حمامة البشرى ۲۵۱ اردو ترجمه وكذلك قيل إن الشهداء أحياء اسی طرح کہا گیا ہے کہ شہید زندہ ہیں اور وہ کھاتے يأكلون ويشربون ولكنا لا نرى پیتے ہیں لیکن ہم نہیں دیکھتے کہ وہ لوگوں سے أنهم لاقوا الناس كالأحياء ووثبوا زندوں کی طرح ملے ہوں۔اور وہ اپنی قبروں سے من قبورهم و رجعوا إلى دورهم چھلانگ لگا کر باہر آئے ہوں اور اپنے گھروں فلو كانت هذه الأمور۔أعنى نزول کو واپس لوٹ آئے ہوں۔پس اگر یہ امور یعنی الملائكة، وتوسيع قبور المؤمنين فرشتوں کا نزول ، مومنوں کی قبروں کا وسیع کئے جانا ووجود الجنّات فيها، وقعود اور ان میں باغات کا موجود ہونا اور مُردوں کا الموتى في القبور أحياء، وغيرها قبروں میں زندہ ہو کر بیٹھنا اور کچھ دوسرے اُمور التي يوجد ذكرها في القرآن جن کا ذکر قرآن اور احادیث میں پایا جاتا ہے والأحاديث۔من الأمور الحقيقية حقيقى اور حسی امور ہوتے جن کا تعلق اس عالم سے الحسية التي هي من هذا العالم لا ہے نہ کہ عالم مثال سے تو ہم اس کو دیکھتے جیسے ہم من عالم المثال۔۔لرأيناه كما نرى أن دوسری اشیاء کو دیکھتے ہیں جو اس دنیا میں پائی أشياء أخرى التي توجد في هذه جاتی ہیں۔اور تو جانتا ہے کہ ہم میں سے کوئی ان الدنيا۔وأنت تعلم أن أحدا منا لا واقعات کو اُس آنکھ سے نہیں دیکھتا جس کے ساتھ يرى هذه الواقعات بعین یری بھا وہ اس عالم کی اشیاء کو دیکھتا ہے۔کیونکہ ہم اس أشياء هذا العالم، فإنا نرى أشجار دنیا کے درخت اور اُس کے باغوں کو دور سے هذا الـعـالـم وبساتينها عن بعيد، دیکھ لیتے ہیں اور ہم اُن کے پھل اُن کی ٹہنیوں ونرى ثمراتها معلقة بأغصانها، ولكنا سے لٹکے ہوئے دیکھتے ہیں۔لیکن جب ہم شہداء إذا كشفنا قبر شهید من الشهداء میں سے کسی شہید کی قبر کھولتے ہیں تو اُس میں اُن فلا نجد فيها أثرًا منها، وقد آمنا كا كوئی نشان نہیں پاتے حالانکہ ہمارا ایمان ہے کہ بأن قبورهم أو دعت لفائف النعيم، ان کی قبروں کو تہ در تہ نعمتیں ودیعت کی گئی ہیں