حَمامة البشریٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 378

حَمامة البشریٰ — Page 242

حمامة البشرى ۲۴۲ اردو ترجمه ثم لك الخيار من بعد، وبيدك پھر اس کے بعد تجھے اختیار ہے اور اسے قبول کرنا یا القبول والردّ و حاصل قولنا أن نہ کرنا تیرے ہاتھ میں ہے۔اور ہمارے کلام کا الملائكة قد خُلقوا حاملين للقدرة خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے ابدی الہی قدرت کو اُٹھانے الأبدية الإلهية، منزهين عن التعب کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔وہ تھکاوٹ ، ماندگی واللغب والمشقة، ولا يجوز عليهم اور مشقت سے منزہ ہیں۔سفر کی مشقت، مراحل مشقة السفر وتعب طي المراحل طے کرنے کی تھکان، منازل اور مقاصد تک جان کو والوصول إلى المنازل والمقاصد تکلیف میں ڈال کر اور وقت صرف کر کے پہنچنا بشق الأنفس وصرف الأوقات اُن کے لئے درست نہیں۔کیونکہ وہ (فرشتے) اللہ فإنهم بمنزلة جوارح الله لإتمام کی اغراض کو محض ارادہ کرنے سے، بلا توقف پورا أغراضه بمجرد إرادته من غیر کرنے کے لئے بمنزلہ اس کے اعضاء کے ہیں۔مكث، فلو كان نزولهم و صعودهم اور اگر ان کا نزول اور صعود انسانی صعود اور على طرز صعود الإنسان ونزوله نزول کی طرز پر ہوتا تو آسمانی حکومت کا نظام لاختل نظام ملكوت السماوات درہم برہم ہوجاتا اور جو کچھ ان (ارض وسماء) وفسد كل ما فيهما، ولعاد كل هذا میں ہے وہ تمام تر بگڑ جاتا۔اور یہ سارا نقص اللہ النقص إلى الله الذى أقامهم مقامه کی طرف منسوب ہوتا جس نے ان کور بوبیت في المهمات الربوبية والخالقية اور خالقیت اور دیگر صفات کی مہمات میں اپنا وغيرهما، فإنهم مدبّرات أمره، قائم مقام بنایا ہے۔پس وہ اُس کے ہر کام کے والحافظون من لدنه على كل شيء، منتظم اور اُس کی طرف سے ہر چیز پر نگران ہیں وإنما أمرهم إذا أرادوا شيئا فيكون اور اُن کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ الشيء المقصود من غير توقف کریں تو وہ مقصود چیز بلا توقف ہو جاتی ہے۔فأنّى ههنا السفر؟ وأين طيّ المراحل پس کہاں یہ سفر اور کہاں مراحل طے کرنے