حکایاتِ شیریں — Page 8
۱۲ خدا کے بنڈل پر رحم شیخ سعدی لکھتے ہیں کہ ایک بادشاہ کو ناروا کی بیماری تھی۔اس نے کہا کہ میرے لیے دعا کریں کہ اللہ کریم مجھے شفا بختے تو میں نے جواب دیا کہ آپ کے جیل خانہ میں ہزاروں بے گناہ قید ہوں گے ان کی بد دعاؤں کے مقابلہ میں میری دعا کب سنی جا سکتی ہے۔تب اس نے قیدیوں کو رہا کر دیا اور پھر وہ تندرست ہو گیا۔غرض خدا کے بندوں پر اگر رحم کیا جائے تو خدا بھی رقم کرتا ہے۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۳۶۹) پوستی کی حکایت مجھے ایک پوستی کی کایت یاد آئی۔وہ یہ ہے کہ ایک پوستی کے پاس ایک ٹوٹا تھا۔اور اس میں ایک سوراخ تھا یہ سب رفع حاجت کو نباتا۔اس سے پیشتر کہ وہ فارغ ہو کہ طہارت کر لے۔سارا پانی لوٹ سے نکل جاتا تھا آخر کئی دن کی سوچ اور فکر کے بعد اس نے یہ تجویز نکالی کہ پہلے طہارت ہی کر لیا کریں اور اپنی اس تجویز پر بہت ہی خوش ہوا۔اسی قسم کا نکتہ اور نسخہ ان کو ملا ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ ۱۷۷) حق دوستی سعرية چهری۔۔۔ایک بری صفت ہے لیکن اگر اپنے دوستوں کی چیند بلا اجازت استعمال کر لی جاوے تو معیوب نہیں (بشرطیکہ دوست ہوں) دو شخصوں میں باہمی دوستی کمال درجہ کی تھی اور ایک دوسرے کا محسن تھا۔اتفاقاً ایک شخص سفر پر گیا۔دوسرا اس کے بعد اس۔کے گھر میں آیا اور اس کی کنیز سے دریافت کیا کہ میرا دوست کہاں ہے اس نے کہا کہ سفر کو گیا ہے پھر اس نے پوچھا کہ اس کے روپیہ والے صندوق کی چابی تیرے پاس ہے ؟ کینتر نے کہا کہ میرے پاس ہے۔اس نے کنیز سے وہ صندوق منگوا کر چابی لی اور خود کھول کر کچھ روپے اس میں سے ے گیا جب صاحب خانہ سفر سے واپس آیا تو کنیز نے کہا کہ آپ کا دوست گھر میں آیا تھا۔یہ سن کر صاحب خانہ کا رنگ زرد ہو گیا اور اس نے پوچھا کہ کیا کہتا تھا۔کنیز نے کہا کہ اس نے مجھ سے صندوق اور چابی منگوا کر خود آپ کا روپیہ والا صندوق کھولا اور اس میں سے رو پیر نکال کر نے گیا۔پھر تو وہ صاحب خانہ اس کنیز یہ اس قدر خوش ہوا کہ بہت