حکایاتِ شیریں — Page 18
۳۲ نے ضرور کوئی بھلائی کی ہے جس کی وجہ سے تو نے جادو نہیں سیکھا اس نے کہا کہ میں نے کوئی اچھا کام نہیں کیا سوائے اس کے کہ راستہ میں سے کانٹا اٹھایا۔اس نے کہا بس یہی تو ہے جس کی وجہ سے تو جادو نہ سیکھ سکا۔تب وہ بولا خدا تعالیٰ کی بڑی مہربانیاں ہیں کہ اس نے ذرہ سی نیکی کے بدلہ بڑے بھاری گناہ سے بچا لیا۔( ملفوظات جلد ششم ص ۲۶) وفاداری کا سبق کتے سے سیکھو مصلت لکھا ہے کہ ایک یہودی مشرف بہ اسلام ہوا۔کچھ دن بعد جو میبد کا سامنا ہوا اور بھوکا مرنے لگا اور فاقے پر فاقہ آنے لگا۔تو کسی ں چھوڑتا تو اسے خیال گزرا کہ شاید تین حصے اس کے ہوں اور ایک حصہ میرا ہو۔اس لیے اس نے ایک روٹی اور ڈال دی مگر کتا وہ روٹی کھا کر بھی واپس نہ گیا۔تب اسے کتے پر غصہ آیا اور کہا تو تو بڑا بد ذات ہے مانگ کر نہیں چار روٹیاں لایا تھا مگر ان میں سے تین کھا کر بھی تو پیچھا نہیں چھوڑتا۔خدا تعالیٰ نے اس وقت کتنے کو بولنے کیلئے زبان دے دی تب کتے نے جواب دیا کہ میں بدذات نہیں ہوں۔میں خواہ کتنے فاقے اٹھاؤں مگر مالک کے سوائے دوسرے گھر یہ نہیں جاتا۔بدذات تو تو ہے جو دو تین فاقے اٹھا کر ہی کا مر کے گھر مانگنے کیلئے آگیا۔تب وہ مسلمان یہ جواب سن کر اپنی حالت پر بہت پشیمان ہوا۔( ملفوظات جلد نهم صفحه ۴ ) یہودی کے مکان پر بھیک مانگنے کیلئے گیا۔یہودی نے اس نو مسلم کو کیمیا کے لالچ کے نقصانات پر بھیک۔کو چار روٹیاں دیں۔جبہ، وہ روٹیاں لے کر جارہا تھا تو ایک کتا بھی اس کے پیچھے ہو لیا۔اس شخص نے یہ خیال کرکے کہ شاید ان رویوں میں سے کتنے تھا بھی کچھ حصہ ہے۔ایک روٹی کہتے کے آگے پھینک دی۔اور آگے چل دیا ، کناس روٹی کو جلدی جلدی کھا کر پھر پیچھے پیچھے ہو لیا۔تب اس نے خیال کیا کہ شاید ان روٹیوں میں سے نصف حصہ کتنے کا ہو۔تب اس نے ایک اور روٹی کتنے کے آگے پھینک دی۔مگر کتا اس کو بھی کھا کر پیچھے پیچھے چل دیا، پھر اس نے جب معلوم کیا کہ کتاب پیچھا بہت سے لوگ کیمیائی فکر میں لگے رہتے ہیں اور غم کو ضائع کرتے ہیں اور بجائے اس کے کہ کچھ حاصل کریں جو کچھ پاس ہوتا ہے اس کو بھی کھو دیتے ہیں۔ایک شخص بٹالہ کا رہنے والا تھا جو کہ کسی قدر غربت سے گزارہ کرتا تھا اور اس نے جو مکان رہائش کے لیے بنایا تھا اس کے باہر کی ایک ایک اینٹ تو یکی سختی اور باقی اندر سے کچا تھا۔ایک دن اسے ایک فقیر ملا جو بہت وظیفہ پڑھتا رہتا تھا اور ظاہرا نہایت