حکایاتِ شیریں — Page 19
۳۵ ۳۷ وہ شخص جب کسی تمام کیلئے گورداسپور گیا تو اسے وہاں معلوم ہوا کہ وہی شخص کسی اور کو دھوکا دے گیا ہے اور وہاں آگ جل رہی ہے۔پیس اس نے ان کو بھی سمجھادیا کہ مجھ کو بھی لوٹ کر لے گیا ہے اور وہاں بھی بنڈیا کھولنے پر اینٹ پتھر ہی تکلے ( ملفوظات جلد دهم صفحه ۱۹۳ (۱۹) جبتک خدانہ دکھائے نیک معلوم ہوتا تھا بوجہ اس کے ظاہری ورد و وظائف کے وہ سادہ لوح تجھے لوٹ کر لے گیا اور جب ہنڈیا کھولی تو اس میں سے روڑے نکلے چنانچہ آدمی اس کے ساتھ بہت بیٹھتا اور تعلق رکھتا تھا۔کچھ مدت کے بعد اس فقیہ نے بڑی سنجیدگی سے اس آدمی سے پوچھا کہ تم نے یہ مکان اس طرح پر کیوں بنایا ہے کیوں نہیں سارا پختہ بنا لیتے اس نے جواب دیا کہ نہیں غریب ہوں اس پر فقیر نے کہا روپے کی کیا بات ہے اور اتنا کہ کر خاموش ہو گیا اس ذو معنے جواب پر اس شخص کو کچھ خیال پیدا ہوا اور اس نے پوچھا کہ کیا تم کچھ کیمیا جانتے ہو۔اس نے کہا کہ ہاں استاد صاحب جانتے تھے اور بہت اصرار کے بعد مان لیا کہ مجھ کو بھی آتا ہے۔پر میں کسی کو بتاتا نہیں چونکہ تم بہت پیچھے پڑے ہو اس لیے کچھ تم کو بتا دیتا ہوں اور یہ کہہ کر اس کو گھر کا زیور اٹھا کرنے کی ترغیب دی اور کچھ مدت تک باہر میدان میں جاکر وظیفہ پڑھتا رہا۔ایک دن زیور نے کہ ہنڈیا میں ر نے کر ہنڈیا میں رکھنے لگا مگر کسی طرح اس زیور کو تو چرا لیا اور اس کی جگہ اینٹیں اور روڑے بھر دیئے اور خود وظیفہ کے بہانے باہر چلا گیا اور جاتے وقت کہا گیا کہ اس ہنڈیا کو بہت سے اُپلوں میں رکھ کر آگ دو مگر دیکھنا کیا نہ اتارنا بلکہ جب تک میں نہ آؤں اسے ہا تھو نہ لگانا۔اس نے اس کے کہنے کے مطابق ہنڈیا کو خوب آگ دی اور اس قدر دھواں ہوا کہ ہمسائے اکٹھے ہو گئے اور دروازہ کھلوا کر اندر گئے اور جب اس سے پوچھنے پر معلوم کیا کہ کیمیا بن رہا ہے تو انہوں نے اس شخص کو سمجھایا کہ وہ اس۔۔۔انبیاء وغیرہ خدا تعالیٰ کی چادر کے نیچے ہوتے ہیں۔جتک خدا نہ دیکھا ہے کوئی ان کو دیکھ نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔۔کہتے نہیں سلطان محمود ایک راجہ کو گرفتار کر کے اپنے ساتھ لے گیا وہ راجہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہ کر آخر کار اپنے مذہب اور اسلام کا مقابلہ کر کے مسلمان ہو گیا الگ خیمہ ہیں رہا کرتا تھا۔ایک دن وہ بیٹھا ہوا رو رہا تھا کہ خیمہ کے پاس سے محمود گزرا۔اس نے رونے کی آواز سنی - اندر آیا۔پوچھا کہ اگر وطن یاد آیا ہے تو میں وہیں کا راجہ بنا کر بھیج دیتا ہوں۔اس نے کہا کہ اب مجھے دنیا کی ہوس کوئی نہیں۔اس وقت مجھے یہ خیال آیا ہے کہ قیامت کے دن اگر یہ سوال ہوا کہ تو کیسا مسلمان ہے کہ جب تک محمود نے چڑھائی نہ کی اور وہ گرفتار کر کے تجھ کو نہ لایا تو مسلمان نہ ہوا۔کیا اچھا ہوتا کہ مجھے اسوقت ابتدار میں سمجھ آجاتی کہ اسلام سچا مذہب ہے ( ملفوظات جلد پنجم ۲۰-۴۰۵)