حکایاتِ شیریں

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 21 of 22

حکایاتِ شیریں — Page 21

۳۹ ۳۸ ہنرمندی کا اعلیٰ ترین نمونہ ایک بادشاہ نے ایک نہایت اعلیٰ درجہ کے کا دیگر سے کہا کہ تم اپنے ہنر اور کمال کا مجھے نمونہ دکھاؤ اور نمونہ بھی ایسا نمونہ ہو کہ اس سے زیادہ تمہاری طاقت میں نہ ہو گویا اپنے انتہائی کمال کا نمونہ ہمارے سامنے پیش کرو اور پھر اس بادشاہ نے دودستر اعلیٰ درجہ کے کاریگر سے کہا کہ تم بھی اپنے کمال کا اعلی ترین نمونہ بنا کر پیش کرو اور ان دونوں کے درمیان اس بادشاہ نے ایک حجاب حائل کر دیا۔کاریگر منبر اول تے ایک دیوار بنائی اور اس کو نقش و نگار سے اتنا آراستہ کیا کہ بس حد کر دی اور اعلی ترین انسانی کمال کا نمونہ تیار کیا۔اور دوسرے کا ریگر نے ایک دیوار بنائی مگر اس کے اوپر کوئی نقش و نگار نہیں کیے لیکن اس کو ایسا صاف کیا اور چمکایا کہ ایک صفا شیشے سے بھی اپنے مستقل میں وہ بڑھ گئی۔پھر بادشاہ نے پہلے کا نگیر سے کہا کہ اپنا نمونہ پیش کرو۔چنانچہ اس نے وہ نقش و نگار سے مزین دیوار پیش کی اور سب دیکھنے والے اسے دیکھ کر دنگ رہ گئے۔پھر بادشاہ نے دوسرے کا ریگر سے کہا کہ اب تم اپنے کمال کا نمونہ پیش کرو۔اس نے عرض کیا کہ حضور یہ حجاب درمیان سے اٹھا دیا جاوے۔چنانچہ بادشاہ نے اسے اٹھوا دیا تو لوگوں نے دیکھا کہ بعینہ اسی قسم کی دیوار جو پہلے کا ریگر نے تیار کی تھی دوسری طرف بھی کھڑی ہے کیونکہ درمیانی حجاب اٹھ جانے سے اس دیوار سب نقش و نگار بغیر کسی فرق کے اس دوسری دیوار پر ظاہر ہو گئے کیا بهم دسیرۃ المہدی جلدا صفحه ۲۹۱ ۲۹۲۷) خدا کسی کی نیکی ضائع نہیں کرتا ہمیں اس خدا کی ہی پرستش کرنی چاہیے جو کہ ذرا سے کام کا بھی ابر دیتا ہے۔خدا وہ ہے کہ انسان اگر کسی کو پانی کا گھونٹ بھی دیتا ہے تو وہ اس کا بھی بدلہ دیتا ہے دیکھو ایک عورت جنگل میں جارہی تھی رستہ ہیں اس نے ایک پیاسے کتے کو دیکھا اس نے اپنے بالوں کا رستہ بنا کر کنویں سے پانی کھینچ کر اس کتنے کو چلایا جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے عمل کو قبول کر لیا ہے وہ اس کے تمام گناہ بخش دے گا۔اگر چہ وہ تمام عمر فاسقہ رہی ہے۔( ملفوظات جلد ششم (۲) مولوی صاحب کا وعظ اور عمل مولویوں کی طرف دیکھو کہ دوسروں کو وعظ کرتے اور آپ کچھ عمل نہیں کرتے اسی لیے اب ان کا کسی قسم کا اعتبار نہیں رہا ہے۔ایک مولوی کا ذکر ہے کہ اس نے ایک مسجد کا بہانہ کر کے ایک لاکھ روپیہ جمع کیا۔ایک جگہ وہ وعظ کر رہا تھا۔سامعین میں اس کی بیوی بھی موجود تھی۔صدقہ و خیرات اور مغفرت کا وعظ اس نے کیا۔اس کے